اسلام آباد/لاہور (آن لائن+نمائندہ جسارت)وفاقی شریعت عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر سودی نظام سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ منگل کو چیف جسٹس وفاقی شریعت عدالت جسٹس نور محمد مسکانزئی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سودی نظام کے خلاف جماعت اسلامی کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ دوران سماعت وزارت داخلہ کی جانب سے کوئی نمائندہ عدالت کے رو برو پیش نہیں ہو سکا۔ اس دوران یونائیٹڈ بینکلمیٹڈ (یو بی ایل ) کے وکیل اسلم خاکی نے موقف اپنایا کہ معاملے پر صدر مملکت اور اٹارنی جنرل کی ملاقات کا علم نہیں،مزید وقت دیا جائے،دیکھنا ہے بینکوں کی جو اسکیمیں چیلنج کی گئی ہیں وہ ربا کی تعریف میں آتی ہیں یا نہیں۔ جس پر ریمارکس دیتے ہوئے شریعت عدالت نے کہا کہ ہمارے سامنے کوئی اسکیم چیلنج نہیں ہوئی۔ یو بی ایل کے وکیل نے موقف اپنایا کہ جو بینک لمیٹڈ ہیں ان میں پیسے رکھنا سود نہیں،لمیٹڈ بینک نفع نقصان میں شریک ہوتا ہے، اگر شہری قرض لیتا ہے اور اس سے سود لیا جائے تو یہ ظلم ہو رہا ہے،ہمیں سود اور انڈیکشن میں فرق رکھنا ہوگا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے رہنما فرید پراچہ نے موقف اپنایا کہ عدالت نے سارا کیس بڑے تحمل اور محبت کے ساتھ سنا ہے اس وقت پاکستان کے حالات سودی قرضوں کی بدولت بہت ہی خطرناک صورتحال اختیار کر چکے ہیں اور ہم عالمی اداروں کے غلام ہو گئے ہیں۔ انھوں نے کہا پاکستان کو سود کی دلدل سے نکالنے کے لیے اس عدالت پر اللہ تعالیٰ نے بہت بڑی ذمے داری عاید کی ہے اور عدالت کا فیصلہ ہمارے لیے گیم چینجر بن سکتا ہے۔ انھوں نے کہا پاکستان 27 رمضان المبارک کو بنا تھا عدالت کا فیصلہ اگر رمضان المبارک میں ہی آئے گا تویہ پاکستان کے مقاصد کے ساتھ ہم آہنگی ہو گی ۔وفاقی شریعت عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر سودی نظام سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔دریں اثنا ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے احاطہ عدالت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت پر واضح کیا کہ اب اگر سود کے سلسلے میں وفاقی شریعت عدالت کا فیصلہ آجاتا ہے تو موجودہ حکومت اپیل میں نہ جائے بلکہ اس پر عملدر آمد کرے، اس سے پہلے 1990ء کے فیصلے کو جو وفاقی شرعی عدالت کا تھا اور 1999ء کا فیصلہ شریعت ایپلیٹ بینچ کا تھا اس کو حکومتوں نے چیلنج کیا اس طرح کتنے سال قوم کے ضائع ہو گئے اور حکومتیں قوم کو رزق حرام کی طرف دھکیلتی رہی ہیں۔ انھوں نے کہاکہ پاکستان کے علما کرام اور عوام حکومت کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ اگر فیصلہ سود کیخلاف آتا ہے تو وہ اپیل در اپیل کے چکر میںنہ آئے اور قوم کا مزید وقت ضائع نہ کریں۔
