یوکیرینی صدر ولا دیمر زیلسنکی کا کہنا ہے کہ روس نے یوکیرین کو روز آخر تک کھو دیا ہے۔
زیلسنکی نے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر اپنے ویڈیو پیغام میں روس کے یوکیرین پر 24 فروری سے جار حملوں کے حوالے سے بعض بیانات دیے۔
یہ بتاتے ہوئے کہ روسی فوج نے یوکرین کے زاپوریثے اور خرسون علاقوں میں شہریوں کے خلاف "دہشت گردانہ” کارروائیاں کی ہیں، زیلنسکی نے کہا،”قابضین کا خیال ہے کہ یوکرین کی فوج یا سرکاری ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص کا پیچھا کرنے سے ان کے لیے خطے پر کنٹرول کرنا آسان ہو جائے گا۔ وہ ایک فاش غلطی کر رہے ہیں اور خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔”
زیلنسکی نے اس بات پر زور دیا کہ یوکرینی عوام روس کو سنجیدگی سے نہیں لیتی،”روس نے یوکرین کو ہمیشہ کے لیے کھو دیا ہے۔ روس نے پوری دنیا کو کھو دیا ہے اور اب اسے کہیں بھی تسلیم نہیں کیا جاتا۔”
زیلنسکی نے یوکرین میں امن کے قیام کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یوکرین کی فوج نے اس سلسلے میں کامیابی سے اپنا مشن پورا کیا ہے۔
یوکرین میں "قبضے” سے 918 بستیوں کوبازیاب کرائے جانے کی معلومات کا اشتراک کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا کہ وہ ماریوپول کے شہریوں کو بچانے کی بھر پور کوششیں صرف کر رہے ہیں۔
انہوں نے روس کے خلاف پابندیوں کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ ” یہ روسی فوجی مشن کو روکنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ روس کے خلاف مستقبل کی پابندیوں میں روسی تیل کوبھی شامل کیا جانا چاہیے۔۔ دنیا کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ روسی توانائی کے لیے دی گئی رقوم جمہوریت کو بگاڑتی ہیں۔”
دریں اثنا واشنگٹن پوسٹ اخبار نے لکھا ہے کہ زیلنسکی نے امریکی صدر جو بائیڈن سے درخواست کی کہ وہ روس کو "دہشت گردی کی حمایت کرنے والے ممالک” کی فہرست میں شامل کریں۔
واشنگٹن پوسٹ نے موضوع کے قریبی ذرائع پر مبنی اپنی خبر میں لکھا ہے کہ زیلنسکی نے بائیڈن کے ساتھ اپنی آخری فون کال میں امریکہ سے سنجیدہ قدم اٹھانے کو کہا ہے۔
