قومی اسمبلی کا اجلاس ن لیگی رہنما، سابق اسپیکر اور پینل آف چیئرمین ایاز صادق کی زیرِ صدارت ہوا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما، سابق وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف بلا مقابلہ اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہو گئے۔منتخب ہونے کے بعد راجہ پرویز اشرف نے اسپیکر قومی اسمبلی کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔
پینل آف چیئر ایاز صادق نے راجہ پرویز اشرف سے حلف لیا، جس کے بعد نومنتخب اسپیکر قومی اسمبلی نے اپنی نشست سنبھال لی۔
ذمے داری سنبھالنے کے بعد راجہ پرویز اشرف نے قومی اسمبلی سے بطور اسپیکر پہلا خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے 22 ویں اسپیکر کے طور پر بلا مقابلہ منتخب کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اپنے قائد آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا شکر گزار ہوں، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور تمام اتحادیوں کا بھی شکریہ۔
اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ایوان کی تعظیم اور توقیر میں اضافہ اوّلین ترجیح ہو گی، فرض سمجھتا ہوں کہ ایوان میں اپوزیشن کی آواز نہ دبائی جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں عوام کو تقسیم نہیں کرنا، اداروں کو دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے دوسرے اداروں کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔
اس سے قبل وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک کے تحت کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ لگائے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ 5 ہزار میگا واٹ کے ایل این جی پلانٹس بھی لگائے گئے، 1250 میگا واٹ کا پلانٹ 2019ء میں چلنا تھا، جو بند پڑا ہے۔
وزیرِ اعظم کے خطاب سے قبل راجہ پرویز اشرف ایوان میں پہنچے تو قومی اسمبلی میں جئے بھٹو کے نعرے گونجنے لگے۔
ایوان میں بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے بلقیس ایدھی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی قرار داد پیش کی گئی جو ایوان نے منظور کر لی۔
قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری پر حملے کے خلاف مذمتی قرارداد بھی منظور کر لی گئی۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی پر حملے کے ذمے داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
