English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

فورسز کا ٹرانسپورٹر ٹریڈرز پر تشدد قابل مذمت ہے،مولانا عبدالحق

القمر

کوئٹہ(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولاناعبدالحق ہاشمی نے کہا ہے کہ نوکنڈی چاغی سرحدی علاقوں میں فورسزکا ٹرانسپورٹر، ٹریڈرزپر وحشیانہ تشددقابل مذمت ہے سرحدی علاقوں کے عوام وتاجروں کو قانونی تجارت سے کوئی نہیں روک سکتا انتظامیہ وسیکورٹی فورسزاگر ملک سے مخلص ہیں تو وہ پیٹرول وخوردنی اشیا کے بجائے منشیات واسلحہ کے کاروبار پر پابندی لگائے منشیات واسلحہ کا کاروبار تو جاری وجائز جبکہ غربت بے روزگاری میں سرحدی علاقوں میں تجارت پر پابندی اور ڈرائیورزپر غیر انسانی تشدد،انہیں ویرانے میں چھوڑ کر منہ کے حوالے کرنا بدترین ظلم ہے حکومت نوکنڈی سرحدی علاقے میں فورسزکے غیر انسانی مظالم کانوٹس لیں ۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے عوام پر روزگار کے دوازے پہلے سے بند ہیں اب اللہ کی جانب سے کاروبار کے ملنے والے مواقع پر بھی فورسزپابندی لگانا چاہتی ہے ۔بلوچستان کے سرحدوں میں منشیات واسلحہ کے علاوہ ہر قسم کی تجارت کی اجازت دی جائیں حکومت قانون کے مطابق قومی خزانے میں جمع ہونے والا ٹیکس لے فورسزوچند آفیسرزکے جیب واکائونٹ میں ہونے والے بھتا وغنڈہ ٹیکس سے اجتناب کیا جائے ۔ بلوچستان پہلے سے معاشی طور پر تباہ نوجوان بے روزگارتعلیم وکاروبار اورروزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر زراعت بھی بجلی لوڈ شیڈنگ ،حکومتی بے حسی وغفلت کی وجہ سے تباہ اب صرف سرحدی تجارت رہ گئی اس پر بھی آئین وقانون کے برخلاف فورسزکا قبضہ ہے جو رقم وبھتا دینے والوں کیلیے آسانی فراہم کرتی ہے جبکہ مجبور اور قانونی طور طریقے سے تجارت کرنے والوں کی راہ میں مشکلات پیدا کی جارہی ہے جس کی وجہ سے فورسزکے خلاف عوام تاجرزمیں غم وغصہ پایا جاتاہے جو ملک وقوم اور اداروں وعوام کیلیے ٹھیک نہیں ۔جماعت اسلامی بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ،معصوم عوام تاجروں کے خلاف طاقت کے استعمال ،سرحدی تجارت پر غیر قانونی پابندیاں ،بھتا خوری غنڈہ ٹیکس کے خلاف ہر فورم پر آوازبلند کر رہی ہے تاکہ حکومت ہوش کے ناخن لیکر مظلوم عوام تاجرزکو آزادانہ طریقے سے قانونی تجارت کے مواقع فراہم کریں ۔جماعت اسلامی ،مظلوم عوام ،تاجرزکوبارڈرٹریڈ پر غیر قانونی پابندیاں کسی صورت قبول نہیں بلوچستان میں زراعت کی تباہی کے بعدبے روزگاری ،غربت ،انڈسٹری نہ ہونے کی وجہ سے صرف بارڈرٹریڈعوام کیلیے رہ گیا اس پر بھی حکمران بالخصوص سیکورٹی بارڈرفورسزبلاوجہ سختی کررہی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اس سے عوام نوجوانوں میں ردعمل پیدا ہورہا ہے حکمران سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اوربلوچستان میں تاجرز،چھوٹے کاروباری طبقے کے بارڈرٹریڈ پر بلاوجہ کی سختی نہ کریں ۔ سیکورٹی فورسز،بارڈرفورسزودیگر ادارے بلوچستان کے مظلوم عوام کو آئینی حقوق کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے