لاہور (وقائع نگار خصوصی )امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ توشہ خانہ کے تیس سالہ ریکارڈ میں ہونے والے انکشافات ہوش ربا ہیں۔ہر دور حکومت میں لوٹ مار کا سلسلہ جاری رہا، بد قسمتی سے تبدیلی اور انصاف کے نام پر برسر اقتدار آنے والی حکومت نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں۔تحائف کو معمولی قیمت ادا کر کے مہنگے داموں فروخت کرنا افسوسناک اقدام ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزمختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان کرپشن کے لحاظ سے 180ممالک میں 140ویں نمبر پر ہے۔ہر بڑھتے دن کے ساتھ ملک کے اندر کرپشن میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ہر سال 5ہزار ارب روپے کی کرپشن ہو رہی ہے جبکہ 1ہزار ارب روپے منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ممالک منتقل ہو تا ہے۔ مگر اس کی روک تھام کے حوالے سے حکومت سمیت کسی متعلقہ ادارے کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ کرپشن ایک ناسور کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک حکمران خود کرپشن سے پاک نہیں ہو ںگے اس وقت تک پاکستان میں سے کرپشن کا قلع قمع ممکن نہیں۔اوپر سے لیکر نیچے تک کام کروانے کے لیے ریٹس مقرر ہیں۔ معاشرے میں رشوت خوری عام ہے۔جو جتنے بڑے عہدے پر فائز ہے اس کی کرپشن اتنی ہی بڑ ے پیمانے پر پھیلی ہوئی ہے۔محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ جب تک آٹا مافیا، چینی چور، پیٹرول، ڈیزل اورایل این جی مافیا آزاد ہے اس وقت تک پاکستان کے اندر سے مہنگائی کا خاتمہ او ر کرپشن اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکتی۔
