جیکب آباد (نمائندہ جسارت)جیکب آباد میں کٹوہر ،جلبانی اور ڈاہانی خونی تنازع پر جرگہ ،8 گھنٹے تک گفت وشنید کے باوجود فیصلہ نہ ہوسکا ،عید کے بعد فتوی ہوگا ،صحافیوں کی کوریج پر پابندی ،مسلح افراد کو کھلی چھوٹ دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کی تحصیل گڑھی خیرو کے علاقے دائو جھانپور میںکٹوہر ،جلبانی اور ڈاہانی خونی تنازع کے حل کے لیے تاجو دیرو میںجرگے کا انعقاد کیا گیا جس میں سردار منظور خان پہنور ،سردار علی نوا زجلبانی ،سردار سجاد سومرو ،سردار سلمان بلیدی،سردار علی احمد اوڈھو ،سردار عبدالنبی تھیم،باز خان بروہی ،لیاقت رند اور دیگر نے شرکت کی 8 گھنٹوں تک بند کمرے میں گفت و شنید اور مشورے کے بعد فریقین سے قرآن پاک پر حلف لیکر جنگ بندی کراتے ہوئے کہا کہ مسئلہ بہت بڑا ہے عید کے بعد مشورہ کرکے فیصلے کا فتوی دیا جائے گا،یاد رہے کہ ایک سال قبل نئو دیروکے سرکٹ ہائو س میںبھی جرگہ ہوا تھا جس میں فریقین پر مجموعی طور پر تین کروڑ 15لاکھ جرمانہ عائد کیا گیا تھا،جس میں کٹوہر برادری کے اسلم کٹوہر نے شرکت نہیں کی تھی جس کے باعث تنازع ختم نہ ہوا او رپھر بھڑک اٹھا اور تین اضلاع جیکب آباد، لاڑکانہ اور قنبر شہداد کوٹ تک جا پھیلاجس میں اب تک 20سے زائد قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں ،جرگے کے وقت سیکورٹی کے انتظاما ت سخت کیے گئے تھے دوسو سے زائد پولیس اہلکار مقرر کیے گئے تھے ،جرگے میں قالو کٹوہر ،لیاقت کٹوہر ،ربڈنو جلبانی ،امان اللہ ڈاہانی اور بہار خان ڈاہانی نے اپنا مؤقف پیش کیا ،جرگے میں میڈیا پر پابندی عائد کی گئی تھی کوریج کے لیے صحافیوں کو روکا گیا جبکہ مسلح افراد کو کھلی چھوٹ دی گئی جرگے میں پولیس کی موجودگی میںمسلح افرادخطرناک اسلحے کی نمائش کرتے رہے جن کو کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں تھا ،پولیس بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی۔
