حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)سندھ ایکشن کمیٹی نے پی پی ایم کیو ایم معاہدے مسترد کرتے ہوئے اسے سندھ دشمن قرار دیا ہے اور متنبہ کیا کہ اگر اس معاہدے پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کی تو سخت مزاحمت کی جائے گی ، سندھ ایکشن کمیٹی کے اجلاس چیئرمین سندھ یونائیٹڈ پارٹی و کنوینر سندھ ایکشن کمیٹی سید جلال محمود شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سندھ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی، عوامی تحریک کے رہنما قا در راٹھور، جئے سندھ محاذ کے چیئرمین ر یاض چانڈیو، عوامی جمہوری پارٹی کے رہنما ایڈووکیٹ سید لال شاہ، جئے سندھ قومی پارٹی کے سربراہ نواز خان، پوریت مزاحمت کے سربراہ مسرور شاہ، جسقم کے رہنما ڈاکٹر نیاز کالانی، ایس یو پی کے سید زین شاہ، روشن برڑو، پروفیسر عبدالمجید چانڈیو، روشن علی برڑو، نور احمد کاتیار، گلزار سومرو، نواز شاہ بھاڈائی و دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد سید جلال محمود شاہ نے پریس
کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ ایکشن کمیٹی مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان معاہدے کو رد کرتی ہے، یہ معاہدے ملک کے آئین کی روح کے خلاف ہیں ،اگر اس سندھ دشمن معاہدے پر عمل کر نے کی کوشش کی گئی تو سندھ میں سخت احتجاج اور مزاحمت کی جائے گی۔ ملک ریاستی اور جمہوری بحران سے گزر رہا ہے جس کی وجہ سے جمہوریت کے نام پروفاق میں شامل قومو ں کے حقوق پر ڈاکا ڈالا جارہا ہے۔معاہدے کو بھی سندھ کے آئینی حقوق پر ڈاکاسمجھتے ہیں اور ملک کی فیڈریشن، قومی وحدتوں اور قوموں کے حقوق کے خلاف ایک گہری سازش سمجھتے ہیں جو وفاق کے آئینی استحکام کے لیے بہتر نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس میں سخت تشویش کا اظہار کیا گیا کہ مردم شماری کو بار بار متنازع بنا کر سی سی آئی کے پلیٹ فارم سے قبل از وقت مردم شماری کروا کر سندھ کی آبادی کوعددی طور پر کم کرنے کی سازش ہو رہی ہے جو بدنیتی پر مبنی ہے اس لیے آئین کے مطابق مردم شماری کو مقررہ وقت اور طریقہ کار کے تابع ہونا چاہیے۔اس سے پہلے کسی بھی مردم شماری کو غیر قانونی اور سندھ کے خلاف ایک سازش سمجھا جائے گا۔ سید جلال محمود شاہ نے کہا کہ اجلاس میں یہ اتفاق کیا گیا ہے کہ بلدیاتی نظام صوبائی معاملہ ہے اور اس میں غیر ضروری طور پر وفاقی حکومت کی مداخلت غیر آئینی اور غیر قانونی ہے اس لیے موجودہ بلدیاتی ایکٹ کو برقرار رکھتے ہوئے بلدیاتی انتخابات کا عمل مکمل کیا جائے۔
