لاہور(نمائندہ جسارت)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت میں ریمارکس دیے کہ کیا یہ جمہوری نظام ہے، پوریپاکستان کو نچایا ہوا ہے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس امیر بھٹی نے عثمان بزدار کے بطور وزیراعلیٰ استعفامنظوری کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی جس میں چیف جسٹس نے درخواست دائر کرنے والے وکیل سے پوچھا آپ کا اس سے کیا تعلق ہے، یہ آپ کا معاملہ نہیں، عدالت کو مذاق بنایا ہواہے۔جسٹس امیر بھٹی نے کہا کہ کیا یہ جمہوری نظام ہے، پورے پاکستان کونچایاہوا ہے، کسی میں بھی صبر نہیں ہے، ملک لٹ رہا ہے، مر رہا ہے، سانس نہیں آرہی اور یہاں باتیں ہورہی ہیں۔عدالت نے درخواست 10 لاکھ جرمانے کے ساتھ خارج کی جس پر درخواست گزار نے اپنی
درخواست واپس لینے کی التجا کی۔بعد ازاں عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر اسے خارج کردیا۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عثمان بزدار کا استعفا قانون کے مطابق نہیں تھا، استعفا گورنر پنجاب کی بجائے وزیر اعظم کو بھیجا گیا۔چیف جسٹس امیر بھٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ کا اس سے کیا تعلق ہے، یہ آپ کا معاملہ نہیں۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ استعفا ہاتھ سے لکھنا ضروری ہوتا ہے، چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اگر وزیر اعلی کو لکھنا نہ آتا ہو۔ فاضل عدالت نے درخواست گزار تنویر سرور کے وکیل پر سخت اظہار برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ متاثرہ فریق نہیں ہیں کیوں درخواست دائر کی ۔ وکیل ندیم سرور ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ میںنے بطور قانون کے طالب علم درخواست دائر کی ۔ چیف جسٹس محمد امیر بھٹی نے کہا کہ جب متاثرہ فریق مطمئن ہے تو آپ نے درخواست کیوں دائر کی ۔
