وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا ہے عمران خان کی حکومت کو ہٹانے میں کوئی غیر ملکی سازش ثابت نہیں ہوئی۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی کا 38 واں اجلاس ہوا، اجلاس میں امریکا میں تعینات سابق سفیر پاکستانی سفیر اسد مجید نے مبینہ دھمکی آمیز مراسلے پر بریفنگ دی۔
وزیراعظم کے دفتر سے جاری اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نے واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے سے موصول ہونے والے ٹیلی گرام پر تبادلہ خیال کیا، امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر نے اپنے ٹیلی گرام کے سیاق و سباق اور مواد کے بارے میں کمیٹی کو آگاہ کیا۔
اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں وزیر دفاع، وزیر داخلہ، وزیر اطلاعات، وزیر منصوبہ بندی، وزیر مملکت حنا ربانی کھر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، نیول چیف اور سربراہ پاک فضائیہ نے بھی شرکت کی۔
Prime Minister Shehbaz Sharif chaired 38th meeting of the National Security Committee of the Cabinet today.
The meeting was attended by Federal Ministers Khawaja Muhammad Asif, Rana Sanaullah, Ms. Marriyum Aurangzeb, Mr Ahsan Iqbal, pic.twitter.com/IKtzdJosgw— PML(N) (@pmln_org) April 22, 2022
