ویب ڈیسک —
امریکی ریاست ٹینی سی نے ایک قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت مہلک حادثے میں ملوث ایسے ڈرائیور کو جو نشے کی حالت میں گاڑی چلا رہا ہو، مرنے والے شخص کے نابالغ بچوں کی کفالت کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
امریکہ کہ ذرائع ابلاغ کے مطابق ریاستی اسمبلی سے منظور ہونے والے اس بل نمبر 1834 میں کہا گیا ہے کہ ایسا شخص جو نشے کی حالت میں گاڑی کے ہلاکت خیز حادثے کا ذمہ دار ہو، وہ مرنے والے فرد یا افراد کے نابالغ بچوں کی 18 سال تک کی عمر یا ہائی اسکول کی تعلیم مکمل ہونے تک کفالت کا پابند ہو گا۔
کفالت کے لیے رقم کی ادائیگیاں روایتی امریکی قانون "چائلڈ سپورٹ” کی طرح ہی کی جائیں گی ، جس میں دیکھ بھال کرنے والا بنیادی شخص بچے کے بلوغت کی سرکاری عمر 18 سال تک پہنچنے تک اس کی کفالت کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
ادا کی جانے والی رقم کا تعین بچے کی مالی ضروریات ، اس کو میسر وسائل اور بچے کے زندہ بچ جانے والے والدین یا سرپرست اوراس صورت میں ریاست کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا، اگرمتاثرہ بچہ، بچوں کی دیکھ بھال کے محکمے کی تحویل میں ہو۔
روایتی طور پر بچے کی دیکھ بھال کے لیے رقم کے تعین میں یہ پہلو بھی پیش نظر رکھا جاتا ہے کہ اس کا میعار زندگی کیا ہے۔
اگر حادثے کا ذمہ دار شخص جیل کی سزا کی وجہ سے بچے کو دائیگی کرنے کے قابل نہ ہوا تو رہا ہونے کے ایک سال کے بعد اسے یہ ادائیگیاں شروع کرنا ہوں گی۔
ٹینی سی کی سینیٹ میں بدھ کے روز متفقہ منظوری حاصل کرنے سے قبل یہ بل ریاست کے ایوان سے پہلے ہی متفقہ طور پر منظور کیا جا چکا ہے۔
منظوری سے قبل ایک ترمیم کے ذریعے اس بل کو” ایتھن ہیل اور بینٹلی لا” کا نام دیا گیا۔
یہ دونوں ایک پولیس آفیسر نکولس گیلنگرکے بچے ہیں۔ 38 سالہ گیلنگر 2019 میں جینٹ ہینڈز کی کار کے ساتھ حادثے میں ہلاک ہو گیا تھا۔ ہینڈزکی گاڑی نے جب گیلنگر کو ٹکر ماری تو وہ اس وقت نشے کی حالت میں ڈرائیو کر رہی تھی۔ حادثے کے بعد وہ موقع سے فرار ہو گئی۔ تاہم، اسے گرفتار کر کے مقدمہ چلایا گیا اور اب وہ جیل میں 11 سال قید کی سزا کاٹ رہی ہے۔
امریکہ میں نشے کی حالت میں گاڑی چلانا جرم ہے۔
