کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی گولڈن ٹاؤن میں گھر کےباہر سے غائب ہونے والی دعا زہرہ کا آٹھ روز بعد بھی کچھ پتا نہ چل سکا۔ دعا کے والدین نے پولیس رپورٹ مسترد کردی ہے، پولیس کی تفتیشی رپورٹ اور بچی کے اہلخانہ کے بیانات میں تضادات سامنے آئے ہیں۔
پولیس رپورٹ کے مطابق لاپتہ بچی کے والد نے بتایا کہ دعا ساتویں جماعت کی طالبہ ہے جبکہ اسکول انتظامیہ کے مطابق بچی تیسری جماعت تک اسکول آتی تھی، تیسری جماعت تک بچی کے اسکول آنے کی تصدیق کلاس فیلوز نے بھی کی۔
تفتیشی رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ دعا کے گھر کی انٹرنیٹ سرچ ہسٹری میں کورٹ میرج اور نکاح کی معلومات سامنے آئی ہیں جبکہ دعا زہرہ اپنا ٹیبلٹ بھی ساتھ لے گئی ہے۔ دوسری جانب لاپتہ ہونے والی بچی کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ غلط رپورٹ پر ایس ایچ او الفلاح کے خلاف کارروائی کی جائے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اعلیٰ افسران کے حکم پر ایس ایچ او الفلاح بدر شکیل کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، تفتیشی ٹیم لڑکی کے غائب ہونے کی وجوہات کا پتا لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ دوسری جانب وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے بھی دعا زہرہ کی گمشدگی کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
ایف آئی اے سائبر کرائم کے سربراہ عمران ریاض نے ٹیم تشکیل دے دی۔ ایف آئی اے کی چار رکنی ٹیم کی دعا کے اہل خانہ سے ملاقات بھی ہوئی ہے۔ ٹیم میں فارنزک ایکسپرٹ، انویسٹی گیشن افسر اور ماہرنفسیات شامل ہیں۔
