اسلام آباد:نوبل انعام کے لئے نامزد رفاہی تنظیم اخوت فائونڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر امجد ثاقب نے کہا ہے کہ ہم نے اخوت پروگرام چند ہزار روپے سے شروع کیاتھا اورآج162ارب روپے دے کر دنیا میں قرضہ حسنہ کا سب بڑا پروگرام بن گیا، پورے پاکستان میں 50لاکھ افراد کو قرضے دیئے گئے ہیں، اصل کریڈٹ ہمارے ان دیانتدار دوستوں، بہنوں اوربھائیوں کو جاتا ہے جنہوں نے یہ قرضے لئے اور 99.9فیصد کی شرح سے واپس کئے۔
ان خیالات کااظہار ڈاکٹر امجد ثاقب نے ایک نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیاکہ اخوت فائونڈیشن اب تک 40لاکھ گھرانوں کو اپنے پائوں پر کھڑ کر چکی ہے، 40لاکھ خاندانوں کا مطلب ہے کہ اڑھائی یا تین کروڑ لوگ براہ راست قرضہ حسنہ کی برکات سے مستفید ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر امجد ثاقب نے کہا کہ اخوت ایک تصور ہے اور ایک ادارہ ہے، نبیﷺ نے بتایا کہ اگر معاشرے میں دو طبقے یعنی امیر اور غریب ہوں تو ان کے درمیان بھائی چارہ ہو جائے ، ایک طبقہ دوسرے طبقہ کو اپنا بنا لے تو وہ معاشرہ بہتر ہو سکتا ہے اوراس کی مثال مواخات مدینہ میں انصار اور مہاجرین کے درمیان ہوئی، ہم نے اس حوالے سے سوچا یہ محض ایک راستہ نہیں بلکہ یہ پوری آنے والی انسانیت کے لئے ایک سوچ اور ایک فکر کا نظام ہے، اگر پاکستان میں 50فیصد امیر اور50غریب ہیں توان میں ہر کوئی ایک دوسرے کو اپنا لے تو اس میں یثار اور قربانی ہو اور بھیک اورگداگری نہ ہو توہم ایک خوبصور ت معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں، اس کی ایک شکل یہ ہو گی کہ ایک بہت بڑا صدقات فنڈ بنے جس میں لوگ عطیات دیں اوراس فنڈ کو ایک ادارہ کسٹوڈین بن کر دیانت اور امانت کے اصولوں کے تحت مختلف لوگوں کو تقسیم کرے اور اس پر سود نہ لے یہ دوسرا اسلامی اصول ہے۔
ڈاکٹر امجد ثاقب نے کہا کہ دنیا میں سرمایہ دارانہ نطام نے جو چیز چھینی ہے وہ اعتماد اور بھروسہ ہے ، ہم کہتے ہیں نہیں ، نبیﷺ کے ایک فرمان کا مفہوم ہے کہ مسلمان خوش گمان ہوتا ہے اور بدگمان نہیں ہوتا، ہم خوش گمانی کے تصور کے تحت یہ قرضے اعتماد اور بھروسے سے لوگوں کو دیتے ہیں اور وہ ہمارے اس اعتماد کو واپس لوٹاتے ہیں، ہمارا ان کے ساتھ مواخات کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے اور قرضہ بغیر سود کے ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مستقبل میں اس پروگرام کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں اگر آج ہم 400شہروں میں ہیں تو کل ہم 800شہروں میں جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پاکستان میں ایک شخص بھی غریب ہے میں کہتا ہوں کہ ہم سب غریب ہیں، ہم نے غربت کو اٹھا کر عجائب گھر کی زینت بنانا ہے اورپاکستان میں عالمگیر انسانیت اور مواخات کا پیغام پھیلانا ہے اور ملک کے باہر بھی اپنا صحیح تشخص پیش کرنا ہے کہ اسلام میں انسانیت کے لئے محبت ہے۔ ہم دنیا میں بھی جائیں گے ، دنیا کے اور ممالک میں ہمارے ماڈل کو بڑی دلچسپی سے سٹڈی کیا جارہا ہے ، لوگ اپنانا چاہتے ہیں تو ہم ان کی سپورٹ کریں گے تاکہ ہم سب مل جل کر ناصرف پاکستان کے اندر ایک خوبصورت معاشرہ بنائیں بلکہ پوری دنیا کو ایک خوبصورت دنیا میں تبدیل کریں جہاں ہر شخص کو عزت سے زندہ رہنے کا موقع ملے۔
