English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ٹوئٹر کا ایلون مسک کے ساتھ 44 ارب ڈالر کا معاہدہ طے

القمر

امریکی ارب پتی اور ٹیسلا کمپنی کے سی ای او ایلون مسک کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر کو خریدنے کا 44 ارب ڈالر کا معاہدہ طے پاگیا ہے۔

یاد رہے کہ خبروں میں مسلسل رہنے والے ایلون مسک نے، جو دنیا کے امیر ترین شخص بھی ہیں، ٹوئٹر کو خریدنے کی خواہش ظاہر کی تھی، کیونکہ ان کے بقول، ٹوئٹر آزادی اظہار کے اپنے وعدے پر پورا نہیں اتر رہا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کمپنی کو نجی ملکیت میں لے کر صارفین کے ساتھ اپنا اعتماد بحال کریں گے اور آزادی اظہار کے سماجی طور پر اہم کام کی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس خریداری کے بعد کمپنی ایک نجی ملکیت کی حیثیت اختیار کر لے گی۔

ٹوئٹر پر کمپنی کے سی ای او پراگ اگروال نے لکھا ہے کہ ٹوئٹر کا ایک مقصد اور اہمیت ہے، جس کا اثر دنیا بھر میں ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ وہ اپنی ٹیم پر فخر کرتے ہیں اور ان کے کام سے متاثر ہیں جو پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔



خبر رساں اداے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ٹوئٹر کے بورڈ نے پہلے اس خریداری کو روکنے کے لیے اقدامات اٹھائے لیکن جب ایلون مسک نے 46.5 ارب ڈالر کی خطیر رقم کے انتظامات کی تفصیل فراہم کی اور ان کے علاوہ کوئی بھی خریدار سامنے نہ آیا تو بورڈ نے مذاکرات شروع کر دیے تھے۔

اس سے پہلے اتوار کے روز اور پیر کے ابتدائی گھنٹوں کے دوران فریقین کے مابین مذاکرات جاری رہے تھے۔ یہ مذاکرات ایسے موقع پر ہوئے جب ابھی دو ہی ہفتے پہلے ایلون مسک نے بتایا تھا کہ انہوں نے ٹوئٹر کے 9 فیصد حصص خرید لیے ہیں۔

ایلون مسک نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ان کے بدترین مخالف بھی ٹوئٹر پر موجود رہیں، کیونکہ یہی اصلی آزادی اظہار ہے۔

اگرچہ ایلون مسک خود کو آزادی اظہار پر مکمل یقین رکھنے والا بتاتے ہیں، لیکن ماضی میں وہ ان سے سوال کرنے یا ان سے متفق نہ ہونے والے ٹوئٹر کے صارفین کو بلاک کر چکے ہیں۔







No media source currently available

حالیہ مہینوں میں وہ کمپنی کو تبدیل کرنے کے حوالے سے کئی طرح کے بیانات دے چکے ہیں جن میں اس کی مواد کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی جس کی وجہ سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اکاؤنٹ پر پابندی لگی تھی، پلیٹ فارم کو جعلی اور مصنوعی اکاؤنٹس سے پاک کرنے اور اس کے آمدنی کے ماڈل کو تبدیل کرنا بھی ان کی پالیسی میں شامل تھا۔

(اس خبر کے لیے مواد ایسوسی ایٹڈ پریس سے لیا گیا)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے