کراچی(رپورٹ: منیر عقیل انصاری) کراچی کے شہری ادارے عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے مافیاز بن چکے ہیں‘ ترقیاتی بجٹ میں اربوں روپے کی کرپشن کی گئی‘ بدعنوان عناصر سندھ حکومت سے چمٹے ہوئے ہیں‘ سیاسی جماعتیں اپنے مفادات سمیٹنے اور مال پانی بنانے میں مصروف ہیں‘ فراہمی و نکاسی آب کا نظام ناکارہ‘ سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور پبلک ٹرانسپورٹ ناپید ہے۔ ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی کراچی پبلک ایڈ کمیٹی کے صدر سیف الدین ایڈووکیٹ، تحریکِ انصاف کی رکن سندھ اسمبلی سدرہ عمران اور کراچی میں شہری امور پر تحقیق اور تربیت سے منسلک ادارے اربن ریسورس سینٹر کراچی کے جوائنٹ ڈائریکٹر زاہد فاروق نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کہ ’’کیا کراچی کے شہری ادارے شہریوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے مافیاز بن چکے ہیں؟ سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ کراچی میں ہر شہری و سرکاری ادارہ مافیا کی شکل اختیار کر گیا ہے‘ عدالتی نظام انصاف کی قتل گاہ بن چکا ہے‘ کراچی کے شہری ادارے شہریوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے مافیاز بن چکے ہیں‘ اس شہر پر ہر قسم کے مافیا کا راج ہے جس میں پانی مافیا، بلڈر مافیا، منافع خور مافیا، واٹر ٹینکر مافیا، ٹرانسپورٹ مافیا، ڈیری فارم مافیا، فلور مافیا، منڈی مافیا، پرائیوٹ ایجوکیشن مافیا، تھانہ کلچر مافیا، کے الیکٹرک مافیا، واٹر اینڈ سیوریج مافیا، پارکنگ مافیا، قبضہ مافیا اور اشیا خورد ونوش مافیا سمیت کئی دیگر مافیاز کے ہاتھوں کراچی والے یرغمال بن چکے ہیں جن کی آزادی کا اب کوئی تصور بھی باقی نہیں رہا ہے‘ کراچی میں ایک سخت احتسابی نظام کی اشد ضرورت ہے کیوں کہ ہمارے شہری ادارے کرپشن زدہ بن گئے ہیں‘ کراچی دنیا کا دسواں بڑا شہر ہونے کے باوجود بلدیاتی سہولتوں سے محروم ہے‘کراچی کے تمام سرکاری ادارے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے بجائے عوام میں محرومیاں پیدا کر رہے ہیں‘ کراچی میں شہری اداروں میں واٹر بورڈ کے علاوہ ادارہ ترقیات کراچی، ملیر، لیاری، لائینز ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹیز، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ماسٹر پلان سمیت دیگر کئی ادارے قائم ہیں۔اور یہ تمام ادارے کراچی کے عوام کو سہولت فراہم کرنے میں ناکام ہیں بلکہ ان اداروں نے مافیا کی شکل اختیار کرلی ہے اور ان میں رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سالڈ ویسٹ کا مسئلہ شہر کا سب سے بڑا مسئلہ ہے‘ شہر میں ہر طرف کچرا ہی کچرا ہے‘ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اور چائنیز کمپنی اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کر پائے اور نہ ہی ان کی کارکردگی نظر آرہی ہے‘ سڑکوں کے کناروں پر گاربیج ٹرانسفر اسٹیشن بنا دیے گئے ہیں‘ گاربیج ٹرانسفر اسٹیشن بنانے کے لیے جو قواعد و ضوابط ہیں ان پر کوئی عمل نہیں ہو رہا ہے‘ کھلی گاڑیوں میں کچرا اٹھایا جا رہا ہے جو کہ شہید ملت روڈ اور شیر شاہ سوری روڈ پر دیکھا جا سکتا ہے‘ یہ کچرا ہوا میں چلتی گاڑیوں سے اُڑ کر دوبارہ سڑکوں پر گرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ گزشتہ40 برس سے کراچی نے صرف دیا ہے اور بدلے میں اسے کچھ ملا نہیں ہے، جن میں بنیادی سہولتیں بھی شامل ہیں‘ اس وقت کراچی وینٹی لیٹر پر ہے اور اپنے پیاروں کی طرف مدد کے لیے دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم ماضی میں چلے جائیں تو کراچی ایسا نہ تھا بلکہ کراچی دنیا کے 10 تیزی سے ترقی کرنے والے شہروں کی فہرست میں شامل تھا‘ آج وہی کراچی دنیا کے 5 ان شہروں میں شامل ہے جو کہ انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں ہیں ‘غرض یہ کہ آج کراچی تباہ و برباد ہو چکا ہے‘ ملک کا سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے کبھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے بھیگ مانگ رہا ہوتا ہے۔ بڑے بڑے منصوبوں اور فنڈز دینے کے اعلانات اور دعوے تو کیے جاتے ہیں لیکن عملی طور پر کارکردگی صفر ہے۔ سدرہ عمران نے کہاکہ یہ بات درست ہے کہ کراچی کے تمام ادارے چاہے وہ صوبائی ہوں یا شہری‘ عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے وہ ایک مافیا بن چکے ہیں‘ کراچی کی بربادی کا حال سب کے سامنے ہے‘ گزشتہ30 برس کے دوران سیاسی جماعتوں نے کراچی کو لوٹ کر کھایا ہے لیکن اس شہر کی ترقی کے لیے آج تک کچھ نہیں کیا‘ صوبائی اور شہری حکومت کے محکموں کی نا اہلی کوبھی روز روشن کی طرح عیاں کر دیا ہے‘ سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں ابلتے گٹر تعفن پیدا کر رہے ہیں‘ فراہمی آب کا نظام بدستور تباہ حال ہے‘ بدعنوان عناصرکو سندھ حکومت سے چمٹے ہوئے17برس سے زاید عرصہ گزر چکا ہے‘ اس دوران اربوں روپے کا ترقیاتی بجٹ خوردبرد کیا گیا‘ سرکاری تعلیمی ادارے زبوں حالی کا شکار ہیں‘ صحت کا نظام ناپید ہے‘ شہر بھر میں115سے زاید اہم سڑکیں تباہ حال اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے‘ہر سال سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے لیے مختص شدہ اربوں روپے کا بجٹ کرپشن کی نذر ہوجاتا ہے‘کراچی کے 3 کروڑ سے زاید عوام بدستور شدید مشکلات اور مسلسل بدحالی کا شکار ہیں‘ گزشتہ کئی برس سے اس شہر قائد میں حکومت کرنے والی جماعتوں نے عوام کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے اپنی ساری توجہ اس کے وسائل کو لوٹنے میں لگائی، اور یہاں کے اپنے ہونے کے دعویدار بھی سیاسی مفادات سمیٹتے اور مال پانی بناتے رہے، جس کے نتیجے میں یہ لاوارث شہر دنیا بھر میں مسائلستان بن کر اُبھرا ہے۔زاہد فاروق نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ کراچی کے شہری ادارے مافیا بن گئے ہیں‘ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی و دیگر ادارے اپنا کا م نہیں کر رہے ہیں‘ پانی کی خرید و فروخت ایک بہت بڑا اور کامیاب کاروبار بن چکا ہے‘ یہ کاروبار کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے اہلکاروں کی آشیر باد سے چل رہا ہے‘ ان کی ملی بھگت سے سپلائی لائنوں میں ملنے والا پانی چوری ہو جاتا ہے جو فیکٹریوں اور دیگر مقاصد کے ساتھ اب گھریلو استعمال کے لیے بھی فروخت ہوتا ہے جب کہ شہریوں کے گھروں میں پانی پہنچانے کے لیے قومی خزانے سے کروڑوں روپے خرچ کر کے سپلائی لائنیں بچھائی گئیں‘ ان سے گھروں میں پانی برسوں سے نہیں آ رہا ہے‘ کئی کارروائیوں میں غیر قانونی ہائیڈرنٹس کو مسمار بھی کیا گیا ہے البتہ اس کاروبار میں ملوث ملزمان کو سزائیں ملنے کی شرح بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں یہ مافیا چند ماہ یا ایک2برس میں وجود میں نہیں آئی بلکہ اس شعبے میں غیر قانونی کاروبار کو پروان چڑھنے کا موقع اس وقت ملا جب 1990ء کی دہائی میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے پانی کی فراہمی کو کمرشل بنیادوں پر استوار کیا اور لوگوں کو پانی ان کے گھروں کی دہلیز پر فراہم کرنے کے بجائے ہائیڈرنٹ سے خریدنے پر مجبور کیا گیا۔ شہر کو 12 سو ایم جی ڈی پانی کی ضرورت ہے لیکن پانی کی سپلائی 500 ایم جی ڈی سے بھی کم ہے‘ شہر میں ٹرانسپورٹ کی صورتحال انتہائی خراب ہے‘ جتنی بڑی بسیں 2010 ء میں پبلک ٹرانسپورٹ کے طور پر چلتی تھیں‘ اب اس کا 50 فیصد بھی شہر کی سڑکوں پر نظر نہیں آتا‘ جب تک شہر میں با اختیار بلدیاتی ادارے نہیں ہوں گے تب تک شہریوں کے مسائل نہیں حل ہوں گے۔
