بنگلور (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی ریاست کرناٹک میں ایک بار انتہاپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طالبات کو امتحان میں بیٹھنے سے روک دیا گیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق واقعہ گورنمنٹ پری یونیورسٹی کالج یادگیر میں پیش آیا۔ کالج کی انتہاپسند انتظامیہ نے طالبات کو بارہویں جماعت کے امتحان میں بیٹھنے سے منع کردیا ،جس کے بعد وہ امتحانات میں بغیر کچھ لکھے گھر واپس لوٹ گئیں۔ معاشیات کا امتحان دینے آنے والی طالبات نے کالج کی انتظامیہ نے حجاب پہن کر امتحان دینے کے لیے بہت درخواستیں کیں،لیکن انہیں مسترد کردیا گیا۔ اس کے بعد طالبات نے بھی حجاب اتارنے سے انکار کردیا اور امتحانی مرکز سے نکل گئیں۔ ادھر کرناٹک ہائی کورٹ کی ایک خصوصی بنچ نے لڑکیوں کو حجاب پہن کر کلاس میں جانے کی اجازت دینے والی درخواستوں کو خارج کردیا ہے، حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا کہ حجاب پہننا اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ عدالتی حکم کے بعد کرناٹک حکومت نے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی عائد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ حجاب پہننے والی طالبات اور اساتذہ کو امتحانی مراکز کے اندر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔طالبات کا کہنا ہے کہ کالج انتظامیہ کی جانب سے ان کے خلاف فوج داری مقدمات کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔
