اسلام آباد ( نمائندہ جسارت)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ آزادی اظہار رائے پر کسی قسم کی قدغن کے حق میں نہیں، اب نہ کوئی چینل بند ہوگا، نہ کوئی پروگرام اور نہ کوئی اخبار، ہم آزادی اظہار رائے پر کامل یقین رکھتے ہیں، فیک نیوز کے خاتمے کے لیے عملی کوششوں کی ضرورت ہے، وزیراعظم کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے حوالے سے بھی فیک نیوز چلائی گئی، وزیراعظم کا دورہ سعودی عرب ذاتی خرچ پر ہو رہا ہے، صرف 13 ارکان وزیراعظم کے وفد میں شامل ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت سینیٹر فیصل جاوید نے کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات کے علاوہ کمیٹی کے ارکان اور وزارت اطلاعات کے حکام نے شرکت کی۔ قائمہ کمیٹی نے مریم اورنگزیب کو وفاقی وزیر اطلاعات کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی۔ وزارت اطلاعات کے حکام نے’’ڈیجیٹل ریڈیو مائیگریشن‘‘ پروجیکٹ کے بارے میں کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اداروں میں وقت کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار رائے پر کسی قسم کی قدغن کے حق میں نہیں ہیں، اب نہ کوئی چینل بند ہوگا، نہ کوئی پروگرام اور نہ کوئی اخبار، ہم آزادی اظہار رائے پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں فیک نیوز کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب کے حوالے سے فیک نیوز چلائی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب بھی اپنے تمام بیرونی دوروں کے اخراجات خود برداشت کیے تھے، وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ سعودی عرب بھی ذاتی خرچ پر ہے، وزیراعظم کے ہمراہ جو لوگ جائیں گے وہ بھی ذاتی خرچے پر جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی وزیراعظم ملک سے باہر جاتا ہے تو دفتر خارجہ جہاز کو اسٹینڈ بائی کے لیے خط لکھتا ہے، یہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں بھی ہوتا رہا ہے۔ قبل ازیں کمیٹی کے اجلاس میں مختلف ٹی وی چینلز کی ٹرانسمیشن بند ہونے اور پیمرا کی جانب سے نوٹسز کے اجرا کے حوالے سے معاملات پر چیئرمین پیمرا نے بریفنگ دی۔ چیئرمین پیمرا نے کہا کہ پیمرا نے کسی بھی چینل کو بند کرنے کی ہدایات جاری نہیں کیں، اے آر وائی کی نشریات پی ٹی سی ایل اسمارٹ ٹی وی پر بند نہیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ جس دن خبر چلی کہ پی ٹی سی ایل پر اے آر وائی کی نشریات بند ہیں، اسی وقت پی ٹی سی ایل حکام سے رابطہ کیا۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ اے آر وائی کی نشریات کسی بھی جگہ بند نہیں کی گئیں، ہم نے اے آر وائی انتظامیہ سے ان کیبل آپریٹرز کے نام بھی پوچھے جنہوں نے اے آر وائی کی نشریات بند کیں لیکن ابھی تک نشریات بند ہونے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ چیئرمین پیمرا نے کہا کہ اے آر وائی ثبوت فراہم کرے، ہم ایکشن لیں گے۔ قائمہ کمیٹی نے اے آر وائی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ جن علاقوں میں اس کی نشریات بند ہوئی ہیں، اس بارے میں وہ رپورٹ جمع کرائے جس پر چیئرمین پیمرا نے کہا کہ اگر اے آر وائی رپورٹ فراہم کرتا ہے تو نشریات بند کرنے والے کیبل آپریٹرز کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔
