English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

وفاقی شرعی عدالت کا 5 سال میں سود کے بغیر معاشی نظام نافذ کرنے کا حکم

القمر

وفاقی شرعی عدالت نے ملک میں رائج سودی نظام کو خلافِ شریعت قرار دیتے ہوئے حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ پانچ سال میں ملک میں بلا سود معاشی نظام نافذ کرے۔

وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس ڈاکٹر سید انور کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جمعرات کو متفقہ فیصلے میں قرار دیا کہ بینکوں کے منافع کی تمام اقسام سود کے زمرے میں آتی ہیں اور سود کی تمام اقسام قرآن و سنت سے متصادم ہیں۔

شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ربا اور سود سے متعلق موجودہ قوانین شریعت سے متصادم ہیں۔ عدالت نے سود کے لیے سہولت کاری کرنے والے تمام قوانین اور شقوں کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یکم جون سے تمام وہ شقیں جن میں سود کا لفظ موجود ہے وہ کالعدم تصور ہوں گی۔

فیصلے میں شرعی عدالت نے کہا کہ بتایا جائے کہ سودی نظام کے خاتمے کی قانون سازی کے لیے کتنا وقت درکار ہے؟ توقع ہے کہ حکومت سود کے خاتمے کی سالانہ رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔

فیصلے کے مطابق اٹارنی جنرل نے عدالت میں بیان دیا کہ سودی نظام کے خاتمے میں وقت لگے گا، دو دہائیوں بعد بھی بلاسود معاشی نظام کے لیے حکومت کا وقت مانگنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے وفاقی شرعی کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان عدالتی فیصلے کا مطالعہ کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ فیصلے پر عمل درآمد کے لیے وفاقی شرعی عدالت نے درکار وضاحت اور رہنمائی حاصل کی جائے گی۔

‘عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالیں گے’

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عید کے بعد وہ معاشی ماہرین، وکلا اور علما سے مشاورت کرکے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سے توقع ہے کہ وہ سودی نظام کے خلاف فیصلے پر عمل درآمد کے لیے حیلے بہانے تلاش نہیں کرے گی اگر حکومت اس میں رکاوٹ بنی تو حکمرانوں کا گریبان اور ہمارا ہاتھ ہوگا۔

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)سے ہونے والے معاہدوں پر بات کرتے ہوئے امیر جماعتِ اسلامی کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اب تک جو معاہدے ہوئے ہیں، وہ غلط ہیں ان پر نظر ثانی کی جائے۔

انہوں نے آئی ایم ایف معاہدوں کو غلامی کا طوق قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے اب تک آئی ایم ایف کے ساتھ 22 معاہدے کیے اس کے باوجود پاکستان ترقی نہیں کر سکا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے