کراچی (رپورٹ: قاضی جاوید)غیر مسلم اپنے تہواروں پر اشیا سستی کر دیتے اور ہمارے تاجر عوام کو لوٹتے ہیں‘ ایف ایم ایف پروگرام اور ڈالر کی قیمت میں اضافے سے اشیا کی پیداواری لاگت بڑھی ہے‘ مہنگائی سے عوام کی قوت خرید مسلسل کم ہو رہی ہے‘ تاجر برادری اب عید پر ہی کماتی ہے ‘ حکومت کے لیے عوام کو ریلیف دینا ممکن نہیں۔ان خیالات کا اظہاربی ایم جی کے سربراہ زبیر موتی والا، سابق وفاقی وزیر اسد عمر،ماہر معاشیات ڈاکٹر حفیظ پاشا اور پاکستان میں اجناس سے متعلق امور کے ماہر شمس الاسلام نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’غیر مسلم اپنے تہواروں پر اشیا سستی کر دیتے ہیں ہم کیوں نہیںکرتے؟‘‘زبیر موتی والا نے کہا کہ یہ درست ہے غیر مسلم ممالک میںغیر مسلم اپنے تہواروں پر اشیا سستی کر دیتے ہیں اور یہ سب کچھ صرف کرسمس پر ہی نہیں ہوتا بلکہ اب تو عید پر بھی وہاں کے شاپنگ سینٹرز اور کمپنیز اپنی اشیا کی قیمتیں کم کر دیتی ہیں اور یہ سب کچھ گوگل پر دیکھا جاسکتا ہے لیکن ہمارے یہاں ایسا بہت کم ہوتا ہے‘ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں عوام کی قوتِ خرید ہر آنے والے دن کے ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے‘ تاجر صرف تہواروں کے دنوں میں ہی کماتے ہیں اور بقیہ دنوں میں ان کی آمدنی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے ‘ اس کے باوجود کراچی چیمبر ہمیشہ یہی کوشش کرتا ہے کہ تاجروں کو اس بات کا احساس دلایا جائے کہ وہ عوام سے زاید منافع حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں ‘ اس سے عوام کی قوت خرید میں مزید کمی ہونے کا خدشہ ہے لیکن اس بات میںکوئی دوسری رائے نہیں کہ عوام کو عید کے موقع پر ریلیف ضرور ملنا چاہیے‘ فیکٹری مالکان دکانداروں کو مال دیتے وقت اس بات کو یقینی بنائیں کہ دکاندار زاید قیمت عوام سے وصول نہیں کریں گے اس سے فیکٹری مالکان اور دکاندار دونوں کی اشیا زیادہ تعداد میں فروخت ہونے سے زیادہ منافع کا امکان ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ اس سوال کا جواب ہمارے ملک کے تاجروں اور صنعتکاروں سے معلوم کرنا چاہیے‘ ہماری حکومت کے دور میں مہنگائی ہوئی ہے لیکن اس کی وجہ یہ تھی کہ عالمی سطح پر چینی کی قیمت میں اگست 2018ء سے لے کر اگست 2021ء تک 83 فیصد اضافہ ہوا جبکہ مقامی سطح پر اس کی قیمتوں میں 41 فیصد اضافہ ہوا‘ گندم کی قیمت میں عالمی سطح پر 51 فیصد اضافہ ہوا جب کہ مقامی سطح پر اس کی قیمت میں 53 فیصد اضافہ ہوا‘ گھی کی قیمت میں عالمی سطح پر 98 فیصد اضافہ ہوا جبکہ مقامی مارکیٹ میں اس کی قیمت 41 فیصد بڑھی‘ دال چنا کی قیمت میں عالمی مارکیٹ میں 40 فیصد اضافہ ہوا جب کہ مقامی مارکیٹ میں اس کی قیمت 37 فیصد بڑھی‘ نیڈو دودھ کی قیمت عالمی سطح پر 52 فیصد بڑھی جبکہ ملکی سطح پر اس کی قیمت میں 25 فیصد اضافہ ہوا‘ دوسری جانب گزشتہ مالی سال میں تقریباً 4 فیصد کے حساب سے مجموعی ملکی پیداوار بھی بڑھی ہے جس کی وجہ سے عام پاکستانی کی اوسط آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اس اضافی آمدنی کی وجہ سے وہ زیادہ قیمتوں کے اثر سے محفوظ رہا لیکن اس بات میں بھی کوئی 2ر ائے نہیں ہے کہ عوام کو صنعتکاروں اور تاجروں نے خوب لوٹا ہے ۔ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ یہ درست ہے کہ غیر مسلم ممالک میں تاجر اور دکانداراپنے تہواروں پر اشیا سستی کر دیتے ہیں‘ اپنے منافع کو کم کرکے عوام کو ریلیف دیتے ہیں لیکن ہم ان کو کافر قرار دیتے ہیں‘ اس سلسلے میں ہمارے ملک کی حکومت اور تاجر برادری دونوں ہی قصور وار ہیں‘ حکومت کی مجبوری آئی ایم ایف پروگرام ہے جس کے کہنے پر بجلی اورگیس کے نرخ بڑھائے جاتے ہیں‘ اس کے بعد صنعتکاروں کے پیداواری اخراجات بڑھ جاتے ہیں‘ اس طرح قیمتِ فروخت کو بڑھانا ان کی مجبوری بن جاتا ہے‘ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ9 ماہ کی قلیل مدت میں تیسرا بجٹ پیش کیا گیا اور ڈالر کے بھاؤ میں بے پناہ اضافے نے صنعتکاروں کے پیداواری اخراجات مزید بڑھا دیے ہیں‘ بجٹ میں عوام کو بے تحاشا مراعات دینے کا وعدہ کیا جاتا ہے لیکن ہر بار اور ہر حکومت میں عوام ہر طرح کی مراعات سے محروم رہ جا تے ہیں‘ حکومت کے مطابق اس نے عالمی سطح پر اشیا کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافے کو ملکی صارفین کو منتقل نہیں کیا ہے لیکن آج جو حالات ہیں اس میں کسی تاجر کے لیے عوام کو ریلیف دینا ممکن ہی نہیں ہے۔ شمس الاسلام نے کہا کہ حکومت جن چیزوں پر یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ان کی عالمی سطح پر قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو اس نے مکمل طور پر صارفین کو منتقل نہیں کیا‘ ان میں گندم اور چینی نمایاں ہیں‘ ان دونوں چیزوں کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور پاکستان کو مہنگے نرخوں پر گندم اور چینی درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔
