ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے برطانیہ میں ظہور پذیر ہونے والے اور بعد میں 16 ممالک میں مشاہدہ ہونے والے نامعلوم یرقان کے مرض میں مبتلا مریضوں کے لیے "معیاری حفظان صحت کے اصولوں کو لاگو کرنے” کی سفارش کی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کی جانب سے ایک تحریری بیان میں کہا گیا ہے، "ہر بچے کے لیے معدے اور آنتوں کی علامات جیسے الٹی، اسہال اور پیٹ میں درد کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ حفظان صحت کے آسان اصولوں پر عمل کریں اور اپنے ہاتھ باقاعدگی سے دھوئیں۔”
بیان میں کہا گیا کہ اگر یہ علامات برقرار رہیں یا مزید بگڑ جائیں تو طبی خدمات حاصل کی جائیں ۔
ڈبلیو ایچ او کے محقق ڈاکٹر فلیپا ایسٹر بروک نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کے جنیوا آفس کی پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ 16 ممالک میں اب تک 1 ماہ سے 16 سال کی عمر کے 170 بچوں میں ہیپاٹائٹس کےوائرس کا مشاہدہ ہو چکا ہے۔
ایسٹر بروک نے یہ معلومات شیئر کیں کہ وائرس سے متاثر ہونے والے بہت کم بچوں کو کوویڈ 19 ویکسین لگائی گئی تھی لہذا ان کیسز کا کوروناویکسین سے کوئی تعلق نہیں۔
