English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

تھیلے سیمیا کے سیکڑوں بچوں نے پریس کلب میں چراغ روشن کیے

القمر
حیدرآباد: فاطمید فائونڈیشن سینٹر میں تھیلیسیمیا کے مریضوں کو تھیلیسیمیا کے عالمی دن پر خون عطیہ کیا جارہاہے

کراچی( نمائندہ جسارت) تھیلے سیمیا کے عالمی دن کے موقع پر تھیلے سیمیا کے سیکڑوں بچے،ان کے والدین،ڈاکٹرز اور سول سوسائٹی سے وابستہ افراد نے معروف کرکٹر اسد شفیق اور ماہر امراضِ خون ڈاکٹر ثاقب انصاری کی قیادت میں کراچی پریس کلب میں چراغ روشن کیے اور ملک سے تھیلے سیمیا کے خاتمے کا عزم کیا۔اس موقع پرمعروف اینکر یحییٰ حسینی،کراچی پریس کلب کے سیکرٹری رضوان بھٹی،سابق صدر اے ایچ خانزادہ،ڈاکٹر راحت حسین اور دیگر بھی موجود تھے۔چراغ جلانے کی تقریب کے موقع پر موجود شرکا نے تھیلے سیمیا سے آگاہی کے لیے منعقدہ اس منفرد تقریب کے انعقاد پر عمیر ثنا فاؤنڈیشن کی تعریف کی اور تھیلے سیمیا کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔تھیلے سیمیا کے بچوں نے اپنے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر’’شادی سے قبل تھیلے سیمیا ٹیسٹ کو عملی شکل دی جائے‘‘۔’’نئی نسل کو تھیلے سیمیا سے بچاؤ،تھیلے سیمیا ٹیسٹ کراؤ‘‘ اور دیگر نعرے درج تھے۔چراغ جلانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ثاقب انصاری نے کہا کہ ملک سے تھیلے سیمیاکے خاتمے کے لیے عمیر ثنا فاؤنڈیشن گزشتہ15سال سے جدوجہد کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آگاہی مہم کے باوجود تھیلے سیمیا کے مریض بچوں کی تعداد میں اضافہ تشویشناک ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مرض کے خاتمے کے لیے سرکاری و نجی ادارے مشترکہ جدوجہد کریں تاکہ تھیلے سیمیا سے محفوظ پاکستان کا خواب پورا ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال 5ہزار بچے تھیلے سیمیا کا مرض لے کر پیدا ہو رہے ہیں،یہ مرض والدین سے بچوں میں منتقل ہوتا ہے،اگر ماں اور باپ تھیلے سیمیا مائنر کا شکار ہوں تو 25فیصد امکان اس بات کا ہوتا ہے کہ پیدا ہونے والا بچہ تھیلے سیمیا میجر کا ہو،اس مرض میں خون بننے کا عمل رک جاتا ہے جس کے نتیجے میں مریض کو ہر 15 دن بعد خون لگانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔شادی سے قبل تھیلے سیمیا کے ٹیسٹ کے ذریعے ہی اس مرض کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے