English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کہیں شاری بلوچ ریڈ لائن تو نہیں؟

القمر
بلوچستان یونیورسٹی میں شاری بلوچ کی ایک بیچ فیلو نغمہ بلوچ (فرضی نام) جو ان کی آبائی گاؤں نظر آباد سے تعلق رکھتی ہیں کے مطابق شاری بلوچ کو یونیورسٹی میں بی ایس او آزاد کی سرگرمیوں میں ہمیشہ دیکھا گیا۔ نغمہ بلوچ کے مطابق جب علیحدگی پسندوں کے ہاتھوں ان کے والد کا قتل کیا گیا تو شاری بلوچ تعزیت اور دلاسہ دینے کے لیے میرے پاس آئی۔ ان کے مطابق شاری بلوچ ایک بولڈ اور ہمدرد لڑکی تھی۔ ان کی سیاسی سرگرمیاں اپنی جگہ لیکن اپنے لیے جو موت اس نے چنی، کم از کم ہم نے کبھی ان کے بارے میں اس حد تک چلے جانے کا نہیں سوچا تھا۔
اگرچہ بوکو حرام، القاعدہ، تامل ٹائیگرز اور تنظیم دولت اسلامیہ میں پڑھی لکھی خواتین کی شمولیت اور پرتشدد کارروائیوں میں بھرپور حصہ لینا اب بہت واضح ہو چکا ہے تاہم پاکستان میں بلوچ لبریشن آرمی کی طرف سے کسی خاتون کو بطور خود کش بمبار کے استعمال کرنے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ دہشت گردی کے اس عفریت کو قابو کرنے کے لئے صرف طاقت کا استعمال اب شاید اتنا موثر نہ ہو گا بلکہ ان نظریات کو بھی ٹارگٹ کرنا ہو گا جوان دہشت گرد تنظیموں کو مسلسل نظریاتی ایندھن فراہم کر رہے ہیں۔ مذکورہ بالا دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہونے والے خواتین تعلیم یافتہ اور با شعور تھیں۔ جو اپنی مرضی سے ان دہشت گرد تنظیموں کا حصہ بنی اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں بطور فعال رکن کردار ادا کیا۔
بلوچستان میں بھی کہیں کچھ ایسا غلط ہو رہا ہے جو بلوچ لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ جسے ریاست مخالف جتھوں کو ایسا مواد فراہم کر رہا جس سے شاری بلوچ جیسے تعلیم یافتہ لوگ بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ اگرچہ شاری بلوچ کے خاندان میں کوئی ایسا شخص نہیں تھا جو لاپتہ ہو، کوئی ایسا واقعہ بھی فی الحال سامنے نہیں آیا جو اس شاری بلوچ کے اس عمل کی کسی بھی حوالے سے کوئی جواز کم از کم انفرادی سطح پر ہی فراہم کرے۔ جیسا کی عمومی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ خود کش حملہ کے پیچھے کچھ انفرادی عوامل بھی شامل ہوتے ہیں جن میں ذاتی استحصال یا بدلہ لینا شامل ہوتا ہے۔
لہذا یہی سمجھا جا رہا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کی فکر و نظریہ ہی وہ تحریک تھی جس نے ایک تعلیم یافتہ اور درس و تدریس سے وابستہ خاتون کو خودکش بمبار میں تبدیل کر دیا۔ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے تجزیہ سے جو وجوہات سامنے آتی ہے ان کے مطابق شاری بلوچ مسلح بلوچ مزاحمت کاروں کے فلسفہ سے متاثر تھی جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔
شاری بلوچ جیسی خواتین کا دہشت گرد تنظیموں کا حصہ بننا اور خود کش حملے کرنا بہت سے سوالات کھڑے کر رہا ہے جن کے جوابات تلاش کرنے میں جتنی تاخیر ہو گی اتنا ہی نقصان زیادہ ہو گا۔ اس نظریہ اور فلسفہ کے بنیادی محرکات کو سمجھنا ہو گا۔ ہر دہشت گردی کے واقعہ کو بیرونی طاقتوں کے کھاتے میں ڈال کر اگلے سانحہ کا انتظار کرنا اب شاید ممکن نہ ہو سکے۔ اور اس سے پہلے کہ کوئی دوسری برمش سامنے آئے بلوچستان سے احساس محرومی ختم کرنا ہو گا۔
بلوچستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ ایک سلگتا ہوا مسئلہ ہے۔ آئے دن ویرانوں سے ملنے والی مسخ شدہ لاشیں بھی بہت سنگین معاملہ ہے۔ بلوچستان کی پسماندگی، درماندگی اور غربت و افلاس کا مداوا بھی بہت ضروری ہے۔ وہاں کے احساس محرومی کا خاتمہ بھی لازمی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ صوبے میں بر سر پیکار ایسے عسکری باغی جتھوں کی بیخ کنی بھی ضروری ہے۔ ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں لانے کی سیاسی مساعی اپنی جگہ مگر شاری جیسے عناصر کی سرشاری اور خوں خواری کو ختم کرنے کا بھی کوئی طریقہ ہے؟

اتور، 8 مئی 2022

شفقنا اردو

 ur.shafaqna.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے