English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

شریف حکومت نے نیب قوانین میں تبدیلیوں کا فیصلہ کرلیا

القمر
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف قومی اسمبلی اجلا س سے خطاب کررہے ہیں

اسلام آباد(نمائندہ جسارت+صباح نیوز+ آن لائن) وفاقی حکومت نے نیب قوانین سمیت دیگر رولز میں تبدیلیوں کا فیصلہ کرلیا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف نے ہائی پاور کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دے دی ہے، کمیٹی کے سربراہ سابق سینئر بیورو کریٹ ناصر محمود کھوسہ ہوں گے، کمیٹی میں سابق چیف سیکرٹریز، سابق وفاقی سیکرٹریز، سابق آئی جیز سمیت دیگر افراد شامل ہوں گے، کمیٹی کے دیگر اراکین کا تعین کمیٹی سربراہ ناصر محمود کھوسہ خود کریں گے، ہائی پاور کمیٹی کو مکمل اختیار ہوگا کہ وہ کسی بھی محکمے سے متعلق کارکردگی کا جائزہ لے کر سفارش کرسکتے ہیں۔اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ہائی پاور کمیٹی تمام تر صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ہمیں تجاویز فراہم کرے، ناصر محمود کھوسہ بہترین انتہائی قابل اور تجربہ کار بیوروکریٹ ہیں ان کی خدمات لے رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق ہائی پاور کمیٹی بنانے کا فیصلہ بیوروکریٹس کے تحفظات سمیت دیگر مسائل کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے، کمیٹی بیوروکریسی کے تحفظات اور دیگر مسائل کا جائزہ لے کر ان کے تحفظات ختم کرنے کے بارے میں تجاویز دے گی اور نیب قوانین سمیت دیگر قوانین اور آرڈیننس میں ضروری تبدیلیوں سے متعلق تجاویز دے گی جب کہ کمیٹی ریفارمز لانے سے متعلق پلاننگ بھی تشکیل دے کر آگاہ کرے گی اور وفاق و پنجاب میں سینئر بیورو کریٹس کی کارکردگی سمیت دیگر اقدامات پر بھی تجاویز دے سکتی ہے۔علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں اظہارِخیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے کہاہے کہعمران خان کی زبان کو روکنا ہوگا ورنہ ملک مزید تقسیم ہوجائے گا، چیئرمین پی ٹی آئی نے جو کل بات کی وہ ہولناک ہے، عمران خان ملک میں عوام کے ذہنوں میں زہر کھول رہے ہیں، اب یہ نہ کھیلنے اور نہ کھیلنے دیں گے پر عمل کررہا ہے، اگر اسے نوٹس لے کر نہ روکا گیا تو پھر ملک مزید تقسیم درتقسیم ہوجائے گا، آئین و قانون کے مطابق اس زبان کو روکنا ہوگا۔انہوںنے کہا کہ عمران نیازی نے نواب سراج الدولہ کے سپہ سالار والی مثال دے کر قومی ادارے کو براہ راست نشانہ بنایا، اس ادارے نے عمران خان کو بچے کی طرح دودھ پلایا ، کسی کو ایسے سپورٹ نہیں کیا جیسے عمران خان کو کیا، جتنی سپورٹ اس لاڈلے کو ملی ہمیں ملتی تو ملک بلندی پر ہوتا۔ شہبازشریف کا کہنا تھا کہ ایک دھمکی کو بنیاد بناکر سازش قرار دیا جارہا ہے، دھمکی تو ہنری کسنجر نے بھٹو کو بھی دی تھی، دھمکی تو پرویزمشرف کو بھی نائن الیون کے بعد دی تھی، کیا یہ سب سازش تھی، دھمکی کی تاریخ بہت لمبی ہے، دھمکی سے سازش کہاں سے نکل آئی۔ اسے قبل ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مصنوعی مینڈیٹ والی گورنمنٹ کو ان کے گھمنڈ اور غرور کی وجہ سے شکست ہوئی، اگر گزشتہ حکومت کو عوام کا صحیح معنوں میں درد ہوتا تو یہ آٹے، چینی اور اشیائِ ضروریہ پر کمیشن کھانے کے بجائے عوام کو ریلیف دیتی اور ان کی قیمتوں کو کم کرتی۔شہبازشریف نے مزیدکہا کہ ملک میں اشعال انگیز بیانات اور جھوٹے پروپیگنڈے سے انتشار پھلانے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے، اداروں کو سیاست میں گھسیٹنے کی کوششوں کی بھرپور مذمت کرتے ہیں،اداروں کے خلاف پروپیگنڈے اور عوام کو دھڑوں میں تقسیم کرنے کی سازش بے نقاب ہو چکی ہے، ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ وہ پاکستان اور اس کے اداروں کا اس فتنے کے خلاف بھرپور دفاع کرے، عمران خان چاہتا ہے کہ یہاں انارکی ہو لیکن ہم سب کو ملک کر اس فتنے سے ملک کی حفاظت کرنی ہے، اداروں کے خلاف عمران خان کی اشتعال انگیزی پر آئین اور قانون کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔علاوہ ازیں عمران خان کے فوج مخالف بیانات پر قومی اسمبلی میں مذمتی قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ قرارداد پارلیمانی امور مرتضی جاوید عباسی نے پیش کی تھی۔ مزیدبرآں وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک کی چینی کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے چینی کی برآمد پر مکمل طور پر پابندی عاید کردی ہے۔ پیرکوو سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چینی کی ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ پر سخت ایکشن لیا جائے گا،جو افراد اپنی ذمے داریاں پوری کرنے میں غفلت کامظاہرہ کریں گے ان کے خلاف سختی سے پیش آیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے