فیصل آباد(جسارت نیوز)کسان بورڈ کے ضلعی صدر علی احمدگورایہ نے کہا ہے کہ ڈیزل اورکھادکی قلت کسانوں کے لیے وبال جان بن گئی ہے،نہری پانی کی قلت کے باعث کسان ٹیوب ویل سے اپنی زمینوںکو سیراب کرتے ہیں لیکن ڈیزل کی قلت کے باعث ٹیوب ویلوںسے بھی پانی غائب ہوچکاہے جس کے باعث آنے والی فصلیں شدیدمتاثرہونے کا خدشہ ہے ۔گندم کی کاشت کے موقع پر کھاد مافیا نے یوریا کھاد غائب کردی تھی اور بلیک میں فروخت کرکے کاشتکاروں کی جیبوں پر ڈاکا ڈالا گیا اور اب کھاد کے ساتھ ساتھ ڈیزل بھی ملک بھرمیں بلیک مارکیٹ میںفروخت ہورہاہے مگر حکومت خاموش تماشائی کا کرداراداکررہی ہے۔ ایسے ہی حالا ت رہے تو ملک بھر میں زرعی اجناس کا بحران پیدا ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ڈیزل کے بحران کی وجہ سے کپاس کی کاشت بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ڈیزل بحران کی وجہ سے زراعت کے ساتھ ساتھ ٹریفک کا پہیہ بھی رکنے کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ شہری علاقوں میں واقع پٹرول پمپوں کو 30 سے50فیصدسپلائی دی جارہی ہے جبکہ مضافات کے علاقوں کے پیٹرول پمپوںکوصرف20فیصد سپلائی دی جارہی ہے۔جس کی وجہ سے کاشتکار اپنی فصلیں بچانے کیلیے بلیک میں ڈیزل خریدنے پرمجبورہیں جبکہ کئی علاقوں میں ڈیزل نہ ملنے کے باعث ٹیوب ویل مکمل بند پڑے ہیں ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کسانوں کے مسائل کا ادراک کرتے ہوئے انہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کرے اور انتظامیہ کو احکامات جاری کرے کہ وہ سرکاری ریٹ پر ڈیزل کی فروخت اور دستیابی کو یقینی بنائے تاکہ بروقت کپاس کی کاشت ہوسکے۔فوری طور پر ڈیزل کی سپلائی بحال کی جائے تاکہ زراعت کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کابھی نقصان نہ ہو۔ گندم کی فصل کا ایک ایک دانہ کسان سے اٹھایا جائے ، زرعی اجناس کی پیدواری لاگت کم کرنے کے لیے بیج، کھاد اور زرعی ادویات پر سبسڈی دی جائے۔
