کولمبو(انٹرنیشنل ڈیسک) سری لنکا کے وزیر اعظم مہندا راجا پاکسے نے شدید مالی بحران کے بعد ملک گیر عوامی احتجاج کے آگے ہتھیار ڈال کر اپنے عہدے سے استعفا دے دیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق توقع ہے صدر گوٹا بایا راجا پاکسے پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل مشترکہ کابینہ تشکیل دیں گے۔تاہم ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ وہ کسی بھی ایسی حکومت میں شامل نہیں ہوگی جس میں راجاپاکسے خاندان سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد موجود ہو۔واضح رہے کہ صدر گوٹا بایا راجا پاکسے وزیراعظم مہندا راجا پاکسے کے چھوٹے بھائی ہیں اور اسی وجہ سے وہ ملک میں شدید مالی بحران اور پٹرولیم مصنوعات سمیت اشیائے ضرورت کی بے پناہ قلت اور عوامی دباؤ کے باوجود اپنے بھائی سے استعفا نہیں لے رہے تھے۔ صدر گوٹابایا راجا نے جمعہ کے روز ہونے والے خصوصی اجلاس میں حالات سے مجبور ہو کر وزیراعظم سے مستعفی ہونے کی درخواست کی تھی۔ صدر پاکسے نے اپنے بھائی کی کرسی بچانے کے لیے مظاہروں سے نمٹنے کے لیے ملک میں کرفیو بھی نافذ کیا تھا اور طاقت کا بے دریغ استعمال کیا تھا ، تاہم مظاہروں کا سلسلہ ایک ماہ سے مسلسل جاری ہے۔ دوسری جانب دارالحکومت کولمبو میں مظاہرین اور حکومت کے حامی سڑکوں پر نکل آئے اور فریقین کے درمیان مختلف مقامات پر پُرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ اس دوران پولیس نے ان پر آنسو گیس کی شیلنگ کی اور تیز دھار پانی کا بھی استعمال کیا۔
