بنگلور (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی ریاست کرناٹک میں مساجد میں اذان کے لیے لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی کے بعد ریاست بھر کے ایک ہزار سے زیادہ مندروں میں رات بھر ہنومان چالیسا کا پاٹھ کیا گیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق بنگلور، میسور، منڈیا، بلگام، دھارواڑ، ہبلی، کلبرگی اور ریاست بھر کے دیگر مقامات پر مندروں میں سری رام سینا اور دیگر ہندو گروہوں کے تعاون سے ہنومان چالیسا کا پاٹھ کیا گیا۔ اس موقع پر ریاستی حکومت کا مکروہ چہرہ کھل کر سامنے آیا اور مساجد میں اذان کی آواز کم کرکے مندروں کو نیندیں حرام کرنے کی کھلی چھوٹ دے گئی ہے۔ دوسری جانب بھارت کے اقتصادی شہر ممبئی میں شرپسند ہندوؤں کے اعتراض کے بعد مداخلت نے مداخلت کرکے مساجد سے اذان کی آواز کو کم کردیا۔ اس موقع پر ممبئی کی سب سے بڑی مسجد کے امام محمد اشفاق قاضی نے کسی تنازع سے بچنے کے لیے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اذان کی آواز ایک سیاسی مسئلہ بن گئی ہے اور میں نہیں چاہتا کہ یہ معاملہ مذہبی رخ اختیار کرے۔انہوں نے کہا کہ ریاست مہاراشٹر کے 3دیگر سینئر مسلمان رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے کہ ریاست کے مغربی حصے میں قائم 900 مساجد میں اذان دیتے ہوئے لاؤڈ اسپیکر کی آواز کم رکھی جائے گی۔ یاد رہے کہ حال ہی میں بھارت کی حکمران ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما مسلمانوں میں 4شادی کی اجازت پر ہرزہ گوئی کرچکے ہیں۔
