وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ یہ نوٹی فیکیشن سینئر جوائنٹ سیکرٹری کیبنٹ تیمور تجمل کے دستخط سے جاری کیا گیا ہے۔
نوٹی فیکیشن کے مطابق سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی قائم مقام گورنر کے فرائض انجام دیں گے۔ گورنر پنجاب کو ہٹائے جانے کے بعد ان سے تمام سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔
خیال رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے گورنر پنجاب کو ہٹانے کا وزیراعظم کی ایڈوائس مسترد کردی تھی۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا تھا کہ گورنر پنجاب کو صدر پاکستان کی منظوری کے بغیر نہیں ہٹایا جا سکتا، آئین کے آرٹیکل 101 کی شق 3 کے مطابق “گورنر صدر مملکت کی رضا مندی تک عہدے پر قائم رہے گا”۔
رات گئے کے فیصلہ قوم کے لئے نہیں اشرافیہ کی رعایا کی بقا کے لئے ہوتے ہیں #امپورٹڈ_حکومت_نامنظور pic.twitter.com/5KJJEFdbDX
— Iftikhar Durrani (@DuraniIftikhar) May 9, 2022
صدر مملکت کا کہنا تھا کہ موجودہ گورنر پر نہ تو بدانتظامی کا کوئی الزام ہے اور نہ ہی کسی عدالت کی طرف سے سزا ہوئی، موجودہ گورنر پنجاب نے نہ ہی آئین کے خلاف کوئی کام کیا، ہٹایا نہیں جا سکتا۔
ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے صدر مملکت کا فرض ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 41 کے مطابق پاکستان کے اتحاد کی نمائندگی کرے، گورنر پنجاب نے پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات، وزیراعلیٰ پنجاب کے استعفیٰ اور وفاداریوں کی تبدیلی کے حوالے سے رپورٹ ارسال کی تھی۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے کہ گورنر کو ہٹانا غیر منصفانہ اور انصاف کے اصولوں کے خلاف ہوگا، ضروری ہے کہ موجودہ گورنر ایک صحت مند اور صاف جمہوری نظام کی حوصلہ افزائی اور فروغ کے لیے عہدے پر قائم رہیں، آئین کا آرٹیکل 63 اے ممبران اسمبلی کو خریدنے جیسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے،اس مشکل وقت میں دستور پاکستان کے اُصولوں پر قائم رہنے کے لیے پرعزم ہوں، گورنر پنجاب کو ہٹانے کے وزیر اعظم کی ایڈوائس کومسترد کرتا ہوں۔
