پی ٹی آئی رہنما سینیٹر اعجاز چودھری نے پنجاب اسمبلی تحلیل ہونے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے اسمبلی چلتی دکھائی نہیں دے رہی۔
انہوں نے کہا کہ منحرف ارکان کے ڈی سیٹ ہونے کے بعد حمزہ شہباز اعتماد کا ووٹ نہیں لے سکتے۔ ہمارا وزیراعلیٰ نہیں تو اسمبلی نہیں۔ کوئی بھی اعتماد کا ووٹ نہ لے سکے تو گورنر اسمبلی توڑ سکتا ہے، ہم نہیں تو پھر وہ بھی نہیں۔
اعجاز چودھری کا کہنا تھا کہ پاکستانی آئین کے آرٹیکل 112 (2) کے تحت کوئی بھی اعتماد کا ووٹ نہ لے سکے تو گورنر اسمبلی توڑ سکتا ہے۔ انہوں نے بڑے اعتماد کے ساتھ کہا کہ پنجاب اسمبلی میں ہماری اکثریت ہے اس لیے ہم آج نہیں تو کل اپنا وزیر اعلیٰ لے آئیں گے۔ اگر ہمارا وزیراعلیٰ نہیں ہوگا تو پھر اسمبلی بھی نہیں ہو گی۔
سینیٹراعجاز چودھری نےپنجاب اسمبلی تحلیل ہونےکا عندیہ دےدیا.پنجاب اسمبلی چلتی دکھائی نہیں دےرہی،منحرف ارکان کےڈی سیٹ ہونےکےبعد حمزہ شہبازاعتماد کا ووٹ نہیں لےسکتے،ہمارا وزیراعلی نہیں تواسمبلی نہیں۔کوئی بھی اعتماد کا ووٹ نہ لےسکےتوگورنراسمبلی توڑسکتا ہے،ہم نہیں تو پھر وہ بھی نہیں pic.twitter.com/0spBGBJ77f
— Naeem Ashraf Butt (@naeemashrafbut3) May 10, 2022
ان کا کہنا تھا کہ منحرف ارکان جلد فارغ ہو جائیں گے اس کے بعد ہم جو چاہیں گے کریں گے۔ ان اراکین کے ڈی سیٹ ہونے کے بعد حمزہ شہباز اعتماد کا ووٹ نہیں لے سکیں گے۔
اعجاز چودھری نے بڑا دعویٰ کیا کہ پنجاب اسمبلی انہیں چلتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی، جب منحرف ارکان ڈی سیٹ ہو جائیں گے تو اس کے بعد حمزہ شہباز ووٹ نہیں لے سکیں گے۔
پی ٹی آئی پنجاب کے رہنما سینیٹر اعجاز چودھری کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کی اکثریت تھی، ہے اور رہے گی۔ یہ منحرفین آج نہیں تو کل ختم ہو جائیں گے۔
