English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

لندن میں مسلم لیگ (ن)کے مرکزی رہنماؤں کی بیٹھک، معاملہ کیا ہے؟

القمر

مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف کی کال پر وزیرِ اعظم شہباز شریف سمیت پارٹی کے دیگر مرکزی رہنما بدھ کو لندن پہنچ رہے ہیں جہاں پارٹی اجلاس کے دوران مشاورت اور بڑے فیصلے متوقع ہیں۔

نواز شریف کی سربراہی میں ہونے والے اس اجلاس سے متعلق قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ اس اجلاس کے بعد کوئی بڑی خبر آنے والی ہے۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ لیگی رہنماؤں کی ملاقات میں آئندہ انتخابات، پنجاب میں حمزہ شہباز کی کابینہ اور پاور شیئرنگ سے متعلق اہم فیصلے ہو سکتے ہیں۔

نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں سے ویڈیو لنک کے ذریعے مشاورت کی تجویز مسترد کر دی تھی جس کے بعد انہوں نے شہباز شریف سمیت دیگر مرکزی رہنماؤں کو لندن طلب کیا۔

لندن پہنچنے والوں میں وزیرِ اعظم شہباز شریف سمیت وفاقی وزرا مریم اورنگزیب، خواجہ آصف، خرم دستگیر اورخواجہ سعد رفیق شامل ہیں۔

صحافتی حلقوں میں اس ملاقات کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ موجودہ معاشی صورتِ حال میں سخت فیصلے کرنا ہیں اور مخلوط حکومت شاید غیر مقبول فیصلے کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اس لیے نواز شریف نئے انتخابات کے حق میں ہیں۔

تجزیہ کار منیب فاروقی مسلم لیگ (ن)کی اس اہم ملاقات کے حوالے سے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہتے ہیں کہ ‘ایک بڑی خبر آںے والی ہے۔’

لندن میں ملاقات کے حوالے سے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ یہ تاثر درست نہیں کہ پاکستان کے فيصلے لندن ميں ہو رہے ہیں۔ ان کے بقول وہ اپنے قائد سے سیاسی مشاورت کریں گے۔

مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنماؤں کو لندن بلائے جانے سے قبل نواز شریف نے سینئر صحافی محسن بیگ مرزا اور تحریکِ انصاف کے منحرف رکن علیم خان سمیت دیگر شخصیات سے ملاقاتیں کی تھیں۔

منگل کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت سر سے پاؤں تک بحران پیدا کر کے گئی ہے اور انہیں مسائل پر بات چیت کے لیے شہباز شریف سے بات ہو گی۔

نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان سے آئندہ الیکشن میں مکمل جان چھوٹ جائے گی۔ ان کے بقول پاکستان تحریک انصاف نے پاکستان کے قومی کلچر کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے