قاہرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) مصر میں طلاق کے بڑھتے رجحان نے حکام کو تشویش میں مبتلا کردیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق صدر عبدالفتاح السیسی نے ملک کی سب سے بڑی دینی درس گاہ جامعہ الازہر کو عائلی قوانین میں ترامیم کی تجویزپیش کی ہے۔ صدر سیسی کا کہنا ہے کہ 20 سال میں طلاق کی شرح میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے۔ ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسا نکاح نامہ چاہتے ہیں جو طلاق کا مسئلہ حل کرے۔ نکاح کے حوالے سے نیا قانون متوازن اور لچک دار ہونا چاہیے۔ہم سب کو مل کرطلاق کے مسئلے کے حل کے لیے حکمت عملی وضع کرنا ہوگی۔ جب عوام کے ایک بڑے طبقے میں طلاق ہوگی تو شادی کا خیال ترک کر دیا جائے گا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پارلیمان مین ایک نئے قانون کے لیے تجویز بھی پیش کی گئی ہے ، جس میں شادی، طلاق اور بچوں کی تحویل کی شرائط کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس پر حتمی رائے لینے کی تیاری کے لیے آیندہ اجلاسوں میں اس پر بحث کی جائے گی۔
