کراچی:وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم سے تحریری معاہدہ ہوا ہے لیکن ایم کیو ایم کو حکومت سندھ میں شامل کرنے کا فی الحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے، اگر وہ آنا چاہیں تو میں انہیں خوش آمدید کہوں گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ عمران خان گھبرا کیوں رہے ہیں، وصیت پبلک کردیں، سندھ میں عمران خان کو کسی سے خطرہ ہے تو ہم کارروائی کریں گے، اگرصوبوں میں خطرہ ہے تو وزیر اعظم کارروائی کریں گے، خطرہ غلط نکلا توعمران خان کے خلاف غلط بیانی پر کارروائی ہوگی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم قانون کی پاسداری کریں گے، اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ جب بیمار تھے تب ہم نے اسپتال کی سہولت دی، وہ جب جیل میں تھے تب انہیں شدید پیٹ میں درد کی شکایت تھی تب میں نے بغیر منظوری کے انہیں اسپتال شفٹ کرنے کا حکم دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسپتال شفٹ ہوتے ہی حلیم عادل شیخ نے سالگرہ منائی، پتہ نہیں کونسا پیٹ میں درد تھا انہیں، آصف علی زرداری نے ساڑھے تین سال پہلے قومی اسمبلی میں کہا تھا کہ ہمیں میثاقِ معیشت کرنا چاہیے، ہمیں الزام تراشیوں سے آگے نکلنا ہوگا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ ساڑھے تین سالوں میں وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان کوئی رابطہ نہیں تھا، گزشتہ تین سال میں کامرس منسٹر مجھ سے ایک بار ملے، پھر انہوں نے ملنا چھوڑ دیا، چاہے رابطہ نہ ہونے کی میری ہی غلطی سمجھ لیں۔
