English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

آرٹیکل 63 اے کی تشریح : سپریم کورٹ کا آج ہی فیصلہ سنانے کا اعلان

القمر

پاکستان کی سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جو منگل کی شام ساڑھے پانچ بجے سنایا جائے گا۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کے دلائل سننے کے بعد صدارتی ریفرنس پر سماعت مکمل کی۔

دورانِ سماعت اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل کے دوران سوال کیا کہ کیا آرٹیکل 63 اے میں مزید کچھ شامل کرنے کی ضرورت ہے؟ کیا پارٹی پالیسی سے انحراف کر کے ووٹ شمار ہو گا؟ ماضی میں ایسے واقعات پر صدرِ مملکت نے ریفرنس نہیں بھیجا۔ عدالت صدارتی ریفرنس کو ماضی کے پس منظر میں بھی دیکھا جائے۔

اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ صدرِ پاکستان کو صدارتی ریفرنس کے لیے اٹارنی جنرل سے قانونی رائے لینے کی ضرورت نہیں، آئین کے آرٹیکل 186 کے مطابق صدرِ پاکستان قانونی سوال پر ریفرنس بھیج سکتے ہیں۔



جسٹس اعجار الاحسن نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا آپ صدرِ پاکستان کے ریفرنس سے لاتعلقی کا اظہار کر رہے ہیں؟ جس پر اشتر اوصاف نے کہا کہ انہیں حکومت کی طرف سے کوئی ہدایات نہیں ملی۔

واضح رہے کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کے وقت صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ میں پارٹی سے انحراف کرنے والے ارکان سے متعلق آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا تھا۔

منگل کو اس ریفرنس پر سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن اتحاد اب حکومت میں آ چکا ہے اور اپوزیشن کا حکومت میں آنے کے بعد صدارتی ریفرنس میں مؤقف وہی ہوگا جو پہلے تھا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ ریفرنس ناقابلِ سماعت ہے اور اسے جواب کے بغیر واپس بھیج دیا جائے؟

جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریفرنس سابق وزیرِ اعظم کی ایڈوائس پر فائل ہوا تھا اور سابق حکومت کا مؤقف پیش کرنے کے لیے ان کے وکلا موجود ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدرِ پاکستان کو قانونی ماہرین سے رائے لے کر ریفرنس فائل کرنا چاہیے تھا اور اگر قانونی ماہرین کی رائے مختلف ہوتی تو صدرِ مملکت ریفرنس بھیج سکتے تھے۔



اس موقع پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے صدارتی ریفرنس پر کافی سماعتیں ہو چکی ہیں، آرٹیکل 17 سیاسی جماعت کے حقوق کی بات کرتا ہے جب کہ آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی پر فریقین سامنے آئے ہیں، ایک وہ جو پارٹی سے انحراف کرتے ہیں اور دوسرا فریق سیاسی جماعت ہے۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تیکنیکی معاملات پر زور نہ ڈالیں، صدارتی ریفرنس کے قابلِ سماعت ہونے سے معاملہ کافی آگے نکل چکا ہے اور عدالت ڈیڑھ ماہ سے اس معاملے کو سن رہی ہے۔

اٹارنی جنرل نے اپنی دلیل میں کہا کہ یہ تیکنیکی نہیں آئینی معاملہ ہے، عدالتی آبزرویشنز سے اتفاق نہیں کرتا لیکن سر تسلیمِ خم کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ عدالت نے رکن اور سیاسی جماعت کے حقوق کو بھی دیکھنا ہے، پارٹی سے انحراف کی صورت میں رکن کے خلاف کارروائی کا طریقہ کار آرٹیکل 63 اے میں موجود ہے۔

اشتر اوصاف نے مزید کہا کہ آرٹیکل 63 اے کے تحت انحراف پر اپیلیں عدالت میں آئیں گی، صدرِ مملکت کے ریفرنس پر رائے دینے سے اپیلوں کی کارروائی پر اثر پڑے گا۔

سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کے ریفرنس پر سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جو منگل کی شام ساڑھے پانچ بجے تک سنائے جانے کا امکان ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے