ایک خاتون ٹک ٹاکر نے صرف ویڈیو بنانے کی خاطر مارگلہ پہاڑی پر تیل چھڑک کر آگ لگا دی۔ حامد میر سمیت کئی افراد نے اسے ڈھونڈ کر گرفتار کرنے کا مطالبہ کردیا۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک خاتون ٹک ٹاکر آگ کے سامنے سے گزر رہی ہے جبکہ اس ویڈیو کے بیک گرائونڈ میں کوک سٹوڈیو کا مشہور گانا ”پسوڑی” بج رہا ہے۔
اس عورت کو ڈھونڈ کر اسکے خلاف قانونی کارروائی کی جائے https://t.co/tSo4bwSCLG
— Hamid Mir (@HamidMirPAK) May 17, 2022
ایک ٹویٹر صارف نے واقعے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں مارگلہ پہاڑیوں کو آگ لگا کر ماڈلنگ کی جاتی رہی لیکن انتظامیہ کو خبر نہ ہوئی۔ محکمہ جنگلات کو جواب دینا پڑے گا کہ انہوں نے اجازت کیسے دی؟ اگر نہیں دی تو کہاں سو رہے تھے؟ اگر آگ پھیل جاتی تو نقصان کا ذمہ دار کون ہوتا؟ متعلقہ افسران اور اس خاتون ڈولی کیخلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ اس کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار حامد میر نے خاتون کو ڈھونڈ کر اس کیخلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد وائلڈ لائف نے آگ لگانے والے ٹک ٹاکرز کے خلاف کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویڈیو بنانے اور فالورز بڑھانے کے لیے جنگل کو آگ لگا دیتے ہیں۔
How can someone fire the nature just to gain some views. Concern authorities must take an action against this #tiktoker and should be punished. It’s absolutely unbearable! 🔥 his name is Sardar Hammad. pic.twitter.com/AuDkiphdwk
— Islamabadian (@Islaamabad) May 17, 2022
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا میں جنگلات کو آگ لگانے کی سزا عمر قید ہے۔ پاکستان میں بھی سخت قانون لانے کی ضرورت ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل ایبٹ آباد میں ٹک ٹاک ویڈیو کی خاطر جنگل کو آگ لگا دی گئی تھی۔ نوجوان قیمتی درخت کو آگ لگا کر ویڈیو بناتا رہا تھا۔ ویڈیو جب منظر عام پر آئی تو محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف نے نوجوان کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کر لیا تھا۔
