لاہور(نمائندہ جسارت)سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیرالعظیم نے کہاہے کہ ملک پر ایک ہی طرح کے مفاد پرست حکمران مسلط ہیں۔پاکستان کوسودی قرضوں میں جکڑنے والے ملک وقوم سے مخلص نہیں جب کوئی گھرانہ معاشی بحران کا شکارہوتو گھرکاسربراہ اور بڑے اپنے اخراجات کومحدودکرتے ہیں تاکہ گھرنیلام نہ ہوجائے لیکن پاکستان کے عوامی خزانے پرپلنے والی سول وملٹری اسٹیبلشمنٹ اپنے اخراجات محدودکرنے کے لیے تیارنہیں۔ اسٹیبلشمنٹ ایک کو سیڑھی دیتی ہے پھر کھینچ لیتی ہے۔ سانپ سیڑھی کاکھیل ختم کیے بغیرملکی مسائل اور بحران کا حل ممکن نہیں،تحریک انصاف اور پی ڈی ایم ایک ہی جانب دیکھتے اورہدایات لیتے ہیں، ملک میں معاشی سقوط ہوچکا بس اس کے اعلان کی اجازت نہیں مل رہی۔سابق اور موجودہ حکومتیں دعوے توکرتی ہیں کہ ان کے پاس معاشی ماہرین ہیں، لیکن ان کے ماہرین آئی ایم ایف کے ایجنڈے کی تکمیل کے سواکوئی خدمت سرانجام نہیں دیتے،جماعت اسلامی کے معاشی ماہرین میں دیانتداری اضافی خوبی ہے اسی وجہ سے صوبائی سطح پر بلاسو داور خسارے کے بغیربجٹ بناکرمثالیں قائم کی گئیں،جماعت اسلامی کے صوبائی وزیرخزانہ نے اس قدراحسن اندازمیں منسٹری کوچلایاکہ عالمی اداروں کے ماہرین بھی خراج تحسین پیش کرنے پرمجبورہوئے۔ان خیالات کااظہار انھوں نے شعبہ سوشل میڈیا جماعت اسلامی شمالی پنجا ب کے زیراہتمام منعقدہ صوبائی ایونٹ روبرومیں اظہارخیال کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر امیرصوبہ ڈاکٹرطارق سلیم،صوبائی سیکرٹری جنرل اقبال خان،صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل رسل خان بابر،مرکزی ڈائریکٹرسوشل میڈیا شمس الدین امجد،صوبائی سیکرٹری اطلاعات وڈائریکٹرسوشل میڈیا انعام الحق اعوان،امیرضلع اسلام آباد نصر اللہ رندھاوا سمیت دیگرذمے داران نے بھی اظہارخیال کیا،روبرومیں صوبے بھرسے سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ شریک ہوئے،قیادت نے ان کے سوالوں کے جواب دیے۔ امیرالعظیم نے کہاکہ سوشل میڈیا پرطوفان بدتمیزی کے مقابلے میں جماعت اسلامی کے کارکن نے ہمیشہ اخلاقی اقدارکامظاہرہ کیا،معاشی اور سیاسی تباہی کے ساتھ اخلاقی انحطاط معاشرے کی تباہی کا باعث بن رہا ہے، ایک سیاسی لیڈردوسرے کی اخلاقی برائیاں بیان کررہا ہوتا ہے جواس میں خوداس سے زیادہ موجودہوتی ہیں لیکن وہ بے شرمی اور ڈھٹائی سے جھوٹ بول کرپوائنٹ اسکورنگ کررہاہوتاہے۔یہاں کچھ حکمران30سال قابض رہ کرملک کولوٹتے رہے اورگزشتہ 3،4سال میں بھی 30سال کاریکارڈتوڑنے کی دوڑ لگی رہی،وزرائے اعظم نے توشہ خانہ کواپنی ذاتی جاگیرسمجھ لیا اور ہروزیراعظم اس وجہ سے عالمی سطح پر پاکستان کی بدترین بدنامی کاباعث بنا۔انھوں نے کہاکہ سوشل میڈیا کارکنان نے کورونامیں جماعت اسلامی کی خدمات کوپوری دنیا میں اجاگرکیاجس کے باعث مین اسٹریم میڈیا مجبورہوا کہ وہ ان سرگرمیوں کواپنے پلیٹ فارم پرجگہ دے۔کارکنا ن جماعت کسی وقتی لہرمیں بہنے کے بجائے اپنی لہراٹھائیں اورجماعت اسلامی کے بیانیے کی مضبوط بنیادیں تعمیرکریں،وہ وقت دورنہیں جب کامیابی اور فتح اہل حق کا مقدرہوگی اور پاکستان میں اسلامی نظام اورنظام مصطفیٰ ؐقائم ہوگا۔
