چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں کوئی نہیں روک سکتا، تمام رکاوٹیں عبور کرکے ڈی چوک جارہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے آزادی مارچ کے آغاز کے لیے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان صوابی پہنچ گئے ہیں، اسلام آباد کی جانب اپنے لانگ مارچ شروع ہونے سے قبل صوابی انٹرچینج پر کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہم ڈی چوک جا رہے ہیں اور ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔
عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارا لانگ مارچ پرامن ہے اور تمام رکاوٹوں کو عبور کرکے ہم اسلام آباد ڈی چوک پہنچیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہر جگہ ہمارے لوگوں کو روکا جا رہا ہے اور رات گئے لوگوں کو گرفتار کیا گیا، رات کو ہمارے کارکنان کے گھروں میں چھلانگیں مار کر گھر سے پکڑا اور ان کی عورتوں کو تنگ کیا۔
سابق وزیر اعظم نے مولانا فضل رحمٰن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’جب ڈیزل لانگ مارچ کر رہا تھا، جب بلاول اور مریم نواز سڑکوں پر نکلے تھے تو ہم نے کوئی رکاوٹیں نہیں ڈالیں تھیں کیونکہ ہمیں عوام کا ڈر نہیں ہے بلکہ ان کو عوام کا ڈر ہے جو گزشتہ 3 دہائیوں سے ملک کا پیسہ چوری کر رہے ہیں‘۔
عمران خان نے کہا کہ میں حکومت کو صوابی انٹرچینج سے پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ جو بھی رکاوٹیں ڈالیں گے ہم تمام رکاوٹوں کو عبور کرکے اسلام آباد ڈی چوک پہنچیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا احتجاج پرامن ہوگا، جو ہمیشہ ہوا ہے، ہم نے ہمیشہ قانون کے بیچ رہ کر پرامن احتجاج کیا ہے، اس لیے میں عدالتوں سے بھی پوچھتا ہوں کہ یہ کس قانون کے تحت ہمیں روک رہے ہیں یہ ہمارا آئینی حق ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس ملک کو اکٹھا کرکے ایک قوم بنانے جا رہے ہیں، یہ ایک آزاد قوم بنے گی، جو کبھی کسی کی غلامی نہیں کرے گی، جو امریکیوں کے غلاموں اور امپورڈ حکومت کو منظور نہیں کرتی۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ میں سارے پاکستان کو کہتا ہوں کہ آج آپ نے نکلنا ہے، اور ملک کی حقیقی آزادی کے لیے ہماری خواتین نے، بچوں، نوجوانوں، ہمارے وکلا، ریٹائر فوجیوں نے اس ملک کے لیے نکلنا ہے۔
قبل ازیں لاہور میں بتی چوک اور بھاٹی چوک پر پی ٹی آئی کے مظاہرین پر پولیس کی شیلنگ کی ویڈیوز ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد پنجاب میں سیاسی صورتحال کشیدہ ہوگئی۔
تازہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی جب حکومت کی جانب سے مارچ کی اجازت نہ ملنے کے صرف ایک روز بعد پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے گزشتہ روز اپنے حامیوں کو اسلام آباد کی جانب ’حقیقی آزادی‘ کے لیے مارچ کرنے کی تلقین کی، عمران خان نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ اپنی مدد آپ رکاوٹیں دور کریں۔
اس سے قبل عمران خان نے ایک ویڈیو پیغام بھی جاری کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ سب میرے ساتھ نکلیں گے کیونکہ یہ پاکستان کی تاریخ کے لیے فیصلہ کن وقت ہے اور ہم حقیقی آزادی لے کر رہیں گے۔
سابق وزیر اعظم نے کہا ہے کہ میں اس وقت اپنے مارچ کا آغاز پشاور سے کر رہا ہوں اور اب سیدھا ولی انٹرچینج پر پہنچ رہا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ میں خیبر پختون خوا کے سارے لوگوں کو یہ دعوت دیتا ہوں کہ وہ ولی انٹرچینج پر پہنچیں جہاں سے میں حقیقی آزادی کے کاروان کی سربراہی کروں گا اور وہاں سے ہم اسلام آباد کی طرف نکلیں گے۔
چیئرمین تحریک انصاف ویڈیو پیغام جاری کرنے کے بعد بذریعہ ہیلی کاپٹر ولی انٹرچینج پہنچے۔
Chairman PTI @ImranKhanPTI has arrived at the Wali Interchange. From here, Kaptaan will lead Haqeeqi Azadi March KP Qafila towards Islamabad, Inshaa’Allah.#حقیقی_آزادی_مارچ#PakistanUnderFascism pic.twitter.com/uweemyzNW9
— PTI (@PTIofficial) May 25, 2022
بعد ازاں عمران خان خیبرپختونخوا کے ولی انٹر چینج سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگئے، اس کے بعد پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے پی ٹی آئی کے جھنڈوں سے مزین ٹرک پر کھڑے عمران خان کی حامیوں کی جانب ہاتھ لہراتے ہوئے تصویر ٹوئٹ کی گئی۔
معاہدے کی تردید
دریں اثنا میڈیا پر اس قسم کی رپورٹس منظر عام پر آئی تھیں جن کے مطابق حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان معاہد طے پا گیا ہے جس کے تحت صرف جلسہ کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔
تاہم وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پی ٹی آئی کے ساتھ کسی قسم کے معاہدے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔
بعدازاں چیئرمین پی ٹی آئی نے بھی سوشل میڈیا پر بیان میں کسی قسم کے معاہدے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسلام آباد کی جانب بڑھ رہے ہیں، حکومت کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
جھڑپیں، گرفتاریاں اور تصادم
اس سے قبل لاہور کے بتی چوک پر تصادم کے بعد 10 افراد کو گرفتار کرلیا گیا، دیگر شہروں میں جھڑپوں کی فوٹیجز بھی سامنے آئی ہیں جن میں جھڑپیں اور پولیس اہلکاروں کو مارچ کرنے والوں پر لاٹھی چارج کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
فوٹیجز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان اس وقت جھڑپیں ہوئیں جب کارکنان اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کرنے کے لیے جمع ہو ئے اور شپنگ کنٹینرز کو ہٹانے کی کوشش کی ، ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ پولیس اہلکاروں نے پی ٹی آئی کے حامیوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ کے مطابق مارچ کرنے والوں کو شاہدرہ کے علاقے میں بھی روک دیا گیا۔
شاہدرہ (لاہور) کے قریب لوگوں نے رکاوٹیں ہٹا دیں۔#حقیقی_آذادی_مارچ pic.twitter.com/TBSjMZxXv1
— PTI (@PTIofficial) May 25, 2022
بعد میں ایک ٹویٹ میں پارٹی نے کہا کہ شاہدرہ میں رکھے گئے شپنگ کنٹینر کو ہٹا دیا گیا ہے۔
شاہدرہ کے کپتان انجینئر یاسر گیلانی نے شاہدرہ چوک پر لگے کنٹینر ہٹا دیے۔ #حقیقی_آزادی_مارچ pic.twitter.com/DM1355nVJ1
— PTI (@PTIofficial) May 25, 2022
نیازی چوک پر بھی پی ٹی آئی کے کارکنوں نے رکاوٹیں ہٹا کر آگے کی جانب مارچ کیا۔
1:50 بجے کے بعد پولیس نے ایوان عدل کے قریب آنسو گیس اور شیلنگ دوبارہ شروع کی، پولیس نے آزادی مارچ کے شرکا کی بس میں موجود 50 سے زائد وکلا اور کارکنان کو بھی گرفتار کر کے پرزنر وین میں منتقل کر دیا۔
پولیس کی جانب سے بسوں پر لاٹھیوں اور پتھر بھی برسائے گئے جبکہ 10 سے 12 کاروں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، اطلاعات کے مطابق اس دوران پی ٹی آئی کی خواتین کارکنان بسوں کے اندر موجود تھیں۔
پولیس نے مؤقف اپنایا کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر یہ گرفتاریاں عمل میں لائی جارہی ہیں، ٹکسالی چوک کے قریب پولیس اور کارکنان کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپوں کو سلسلہ جاری ہے۔
حماد اظہر کو گرفتار کرنے کی کوشش
دریں اثنا پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر کو لاہور میں پولیس نے گرفتار کرنے کی کوشش کی تاہم پی ٹی آئی کارکنان حماد اظہر کو گرفتاری سے بچانے میں کامیاب رہے۔
قبل ازیں حماد اظہر نے اپنی ایک ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ ’کالا شاہ کاکو کے قریب ہماری ریلی پر شدید شیلنگ کی گئی لیکن ہم ان شا اللہ اس رکاوٹ کو بھی دور کر لیں گے‘۔
اس سے قبل لاہور میں حماد اظہر نے کہا تھا کہ بتی چوک، راوی پل اور شاہدرہ پر رکاوٹیں اور کنٹینرز ہٹا دیے گئے ہیں اور سڑکوں کو عوام نے صاف کر دیا ہے۔
یاسمین راشد، عندلیب عباس حراست میں لیے جانے کے بعد رہا
دریں اثنا لاہور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی خواتین رہنما یاسمین راشد اور عندلیب عباس کو پولیس نے حراست میں لینے کے بعد رہا کردیا ہے۔
اس سے قبل ایک اور فوٹیج میں دیکھا گیا تھا کہ لاہور میں ٹمبر مارکیٹ کے قریب پولیس سابق وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد کی گاڑی کو روک رہی ہے، پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر ان کی گاڑی کی چابی نکالنے کی کوشش کے بعد فریقین کے درمیان الفاظ کا تبادلہ بھی دیکھا گیا۔
اس دوران ڈاکٹر یاسمین راشد کی گاڑی کی ونڈ اسکرین ٹوٹ گئی اور ان کے ہاتھوں پر کنکریاں بھی لگیں۔
بعدازاں ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ یہ حکومت بوکھلا گئی ہے، میں نے اپنی گاڑی بہت مشکل سے نکالی ہے، میں 80 سال کی ہوں اس حکومت کو مجھ سے کیا خطرہ ہے جو مجھ پر شیلنگ کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے ہم اپنا مطالبہ منوا کے آئیں گے، پر امن احتجاج کو روکنا کون سا جمہوری فیصلہ ہے، ہم اسلام آباد پہنچ کے رہیں گے۔
لال حویلی پر پولیس نے قبضہ کرلیا ہے، شیخ رشید
سابق وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا کہ کہ میں آزادی مارچ میں شرکت کے لیے جارہا تھا اور تمام رکاوٹیں بھی عبور کرلی تھیں لیکن پولیس نے لال حویلی پر قبضہ کرلیا۔
ٹوئٹر پر اپنے ویڈیو پیغام میں شیخ رشید نے کہا کہ لال حویلی میں پولیس داخل ہوچکی ہے اور 60 کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جھکنے والے ہیں، میں عدلیہ اور ذمہ داران کو کہتا ہوں کہ یہ دیکھ لیں کہ انارکی کون پھیلا رہا ہے۔
— Sheikh Rashid Ahmed (@ShkhRasheed) May 25, 2022
