روس غلے سے بھرے بحری جہازوں کو انسانی بنیادوں پر یوکرین چھوڑنے کی اجازت دینے پر تیار ہو گیا ہے مگر اس کے بدلے اس نے خود پر لگی بعض پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بات ملک کے نائب وزیر اعظم آندرے روڈینکو کے حوالے سے بتائی گئی ہے۔
روس کی طرف سے 24 فروری کو یوکرین میں فوجیں اتارنے کے بعد سے اب تک بحیرہ اسود میں یوکرینی بندرگاہیں بند ہیں۔
اسی سبب 20 ملین ٹن سے زائد غلہ گوداموں میں موجود ہے۔
یوکرین اور روس دنیا کی ایک تہائی غلے کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔
اس جنگ کے سبب دنیا بھر میں خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
