نئی دہلی: بھارت کی مشرقی ریاست بہار میں مبینہ طور پر جعلی شراب پینے سے گزشتہ 5 دنوں کے دوران تقریبا 13 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔مقامی میڈیا نے جمعرات کے روز بتایا کہ اطلاعات کے مطابق یہ اموات بہار کے جنوبی اضلاع اورنگ آباداور گایا میں ہوئی ہیں۔
ریاست کے وزیراعلی نتیش کمار کی جانب سے شراب کی فروخت اور استعمال پر پابندی کے بعد بہارکو گزشتہ کئی سالوں سے “شراب سے پاک ریاست” کا درجہ حاصل ہے۔ تاہم ریاست میں شراب کی غیر قانونی فروخت جاری ہے جس میں ملوث شراب مافیا کی جانب سے پڑوسی ریاستوں سے شراب خرید کر بہار میں چوری چھپے فروخت کی جاتی ہے۔مدن پور اور سلایا تھانوں کے پولیس افسران نے فون پر بتایا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں لیکن انہوں نے ابھی تک ہلاکتوں کی تعداد بتانے سے انکار کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق زیادہ تر متاثرین نے الٹی، پیٹ میں درد اور کم نظر آنے کی شکایت کی ہے۔
ژی نیوز نے بتایا ہےکہ پڑوسی ریاست جھارکھنڈ سے شراب کی ایک کھیپ لائی گئی اور اسے مدن پور ، سلایا اور ضلع گایا کے علاقہ آماس میں تقسیم کیا گیا ۔ اس وقت شراب کی فروخت جاری ہے اورعلاقے کے دیہات اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔دریں اثنا بھارت کے قومی انسانی حقوق کمیشن نے اورنگ آباد اور گایا میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے بعد بہار حکومت کو نوٹس ارسال کیا ہے۔
