English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

باڈہ تحصیل کے درجے سے محروم ، کھنڈرات کا منظر پیش کرنے لگا

القمر
باڈہ ،تعلقہ موومنٹ کے تحت مطالبات کی عدم منظوری پر پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا جارہاہے

باڈہ (نمائندہ جسارت) ڈیڑھ لاکھ آبادی کے ساتھ 14 وارڈوں پر مشتمل لاڑکانہ ضلعے کا دوسرا بڑا شہر باڈہ حکمرانوں کے سوتیلی ماں والے برتاؤ کی وجہ سے تحصیل کے درجے سے محروم ہوکے تباہ و برباد ہوگیا اور کھنڈرات کے مناظر پیش کرنے لگا۔ باڈہ تعلقہ موومنٹ کی جانب سے ہفتے وار احتجاج کے سلسلے میں اس اتوار بھی تعلقہ موومنٹ ڈپٹی کنوینرز زیب علی ساریو اور کامریڈ قادر بروہی کی قیادت میں ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے باڈہ پریس کلب سے حیدر چوک تک ریلی نکال کر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے میں باڈہ شہر کی مختلف سیاسی سماجی جماعتوں کے رہنماؤں عزیز بروہی، دودو دیشی، کامریڈ منور نوناری، علی انور عسکری، محمد علی خشک، فدا حسین تنیو، جمال خاصخیلی، صفر مغیری، عبداللہ بروہی، دیدار سومرو، میر مرتضیٰ گوپانگ، عامر جوگی، سینئر صحافی نظام کولاچی، علی رضا نوناری، نبی رضا بلوچ، مظہر نوشاد پھلپوٹو، محمد ہاشم مدنی سومرو، محمد علی منگی، محمد امین سیال، جی ایم چنجنی، مور سندھی، نادر سومرواور افضل سانبھل ودیگر شہریوں نے کثیر تعداد میں شرکت کرکے “حکمرانوں اپنے وعدے پورے کرو باڈہ کو تحصیل بناؤ” کے زوردار نعرے لگائے۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ باڈہ شہر آبادی اور اراضی کے اعتبار سے تحصیل کا حقدار ہے۔ علاقے کے منتخب ایم پی اے اور ایم این اے کے ساتھ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے مختلف اوقات میں باڈہ کو تحصیل کا درجہ دینے کے ساتھ تمام بنیادی سہولیات میسر کرنے کے وعدے کیے مگر افسوس کے پیپلز پارٹی کے گزشتہ 14 سالوں کے دور حکومت میں باڈہ شہر میں آج تک ترقیاتی منصوبوں کی ایک اینٹ تک نہیں لگائی گئی۔ باڈہ تحصیل کا وعدہ کرکے مکینوں سے ووٹ لے کر اعلیٰ ایوانوں تک پہنچنے والے ہی باڈہ تحصیل کے مخالفین بنے ہوئے ہیں۔ باڈہ تعلقہ موومنٹ کے پلیٹ فارم سے گزشتہ 3 سالوں سے گرمی سردی طوفان اور بارشوں میں بھی شہریوں نے اپنا احتجاج ریکارڈ کراکے اپنے شہر کو تحصیل بنانے کی مانگ کرتے ہوئے منتخب نمائندوں کو ان کے وعدے یاد دلائے ہیں مگر وقت کے حکمران اندھے بہرے اور گونگے بنے ہوئے ہیں جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ منتخب نمائندوں اور پیپلز پارٹی قیادت کو فقط باڈہ مکینوں کے ووٹوں میں دلچسپی ہے مکینوں کے مسائل سے انہیں کوئی واسطہ نہیں ہے۔ مزید انہوں نے کہا کے بلدیاتی الیکشن میں باڈہ شہر میں پیور بلاک کا جو کام چل رہا ہے پیپلز پارٹی کی ایک سازش ہے کہ الیکشن کے ٹائم تھوڑا بہت کام کرکے مکینوں کی توجہ پیپلز پارٹی کی طرف کھینچ کر دوبارہ الیکشن میں ووٹ حاصل کریں گے مگر وہ یہ نہیں جانتے کے باڈہ مکینوں نے حکمرانوں کے جھوٹے چہرے اب پڑھ لیے ہیں انہوں نے اپنے ووٹ اپنے شہر کے حق میں باڈہ تحصیل سے مشروط کیے ہوئے ہیں اور ووٹ اسی جماعت کو ملیں گے جو باڈہ تحصیل کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ باڈہ شہر کو بائی پاس، پبلک پارک، ٹیکسی اسٹینڈ، سڑکوں کی مرمت سمیت دیگر بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے جس سے شہر تباہی کے کنارے آ پہنچا ہے نتیجے میں شہر کے کاروباری خاندان باڈہ شہر کو الوداع کرکے دوسرے شہروں میں منتقل ہوچکے ہیں باڈہ شہر تباہ ہوکر کھنڈرات کے مناظر پیش کر رہا ہے مگر سندھ حکومت اور علاقے کے نمائندوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ آخر میں انہوں نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے ساتھ علاقے کے ایم پی اے اور ایم این اے سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ باڈہ شہر کو تحصیل کا درجہ دے کر اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنائیں اور باڈہ مکینوں میں پھیلی ہوئی بے چینی ختم کریں نہیں تو ہماری جدوجہد تب تک جاری رہے گی جب تک باڈہ کو تحصیل کا درجہ نہیں مل جاتا۔

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے