میرپورخاص (نمائندہ جسارت) میرپورخاص تعلیمی بورڈ کرپشن اور نااہلی کا گڑھ بن گیا، بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میرپورخاص میں کرپٹ اور نااہل لوگوں کا راج، اعلیٰ عدلیہ کے احکامات کے برعکس خلاف ضابطہ کیڈر کی تبدیلی اور ترقی دے کر بٹھائے گئے افسران و ملازمین نے کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ ایک طرف میرپورخاص تعلیمی بورڈ میں مالی بحران کا رونا رویا جارہا ہے تو دوسری جانب تعلیمی بورڈ کے سیکرٹری محمد انیس الدین صدیقی اور آڈٹ افسر حنیف قریشی کی ملی بھگت سے کورونا کی ابتدائی لہر کے دوران بند دفاتر کے دورانیہ میں مبینہ طور پر امتحانی جوابات کی کاپی کی پرنٹنگ، اسٹیشنری اور دیگر اخراجات کے بغیر وائوچر 50 لاکھ روپے سے زائد کے جعلی بل منظور کراکر بھاری رقم ہڑپ کرلی گئی جبکہ اس دورانیہ میں امتحانات لینے کے بجائے تمام طلباء و طالبات کو گھر بیٹھے پروموٹ کردیا گیا تھا اور بتایا جارہا ہے کہ ایسا کوئی بھی خریدا گیا مٹیریل تعلیمی بورڈ نہیں آیا اور اکائونٹس برانچ میں بھی یہ مسنگ وائوچر ہیں۔ سپرنٹنڈنٹ اکائونٹس برانچ اتھارٹی ہونے کے باوجود ریکارڈ سے محروم بتائے جاتے ہیں۔ ان جعلی بلوں کی تفصیلات میں 27 جولائی 2020 ء کو میسرز مولا ٹریڈرز حیدرآباد سے امتحانی جوابات کی کاپی کی پرنٹنگ کے چیک نمبر 18975041 رقم 4 لاکھ 10 ہزار روپے اور اسی تاریخ کو نیو ثنا پرنٹنگ حیدرآباد سے امتحانی جوابات کی کاپی کی پرنٹنگ کے چیک نمبر 18975042 رقم 10 لاکھ 76 ہزار 9 سو روپے اور 28 جولائی 2020 کو میسرز سار انٹرپرائز حیدرآباد سے امتحانی جوابات کی کاپی کی پرنٹنگ کے چیک نمبر 18975047 رقم 36 لاکھ 56 ہزار 6 سو 25 روپے کی ادائیگی یو بی ایل بورڈ برانچ سے کی گئی۔ یہ تمام جعلی امور حیدرآباد میں ہی سرانجام دیے گئے کیونکہ اس میں ملوث تمام افسران و ملازمین حیدرآباد میں ہی رہائش پذیر ہیں اور ان میں سے ایک ملازم کا گھر منی تعلیمی بورڈ کا دفتر بنا ہوا ہے۔ تعلیمی بورڈ کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے ایسے کرپٹ افسران و ملازمین کو فوری منصب سے ہٹادیا جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ، صوبائی وزیر اور سیکرٹری بورڈز اینڈ یونیورسٹیز سمیت تمام متعلقہ وفاقی و صوبائی تحقیقاتی ادارے جامع چھان بین کرتے ہوئے موجودہ انتظامی افسران کے آمدنی سے زائد اثاثوں کا بھی کھوج لگائیں اور انہیں کیفرکردار تک پہنچائیں۔
