لاہور —
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق اسمبلی کے دو الگ الگ اجلاس بلائے گئے ہیں۔ ایک اجلاس حکومت اور اتحادی جماعتوں کی طرف سے جب کہ دوسرا حزبِ اختلاف اور اُن کی ہم خیال جماعتوں نے طلب کیا ہے۔
ایسا پہلی مرتبہ ہوگا کہ پنجاب کے بجٹ کے لیے دو بجٹ اجلاس ایک ساتھ بدھ کو ہوں گے۔ بیک وقت دو مختلف مقامات پر بجٹ اجلاس بلانے پر اسمبلی اسٹاف بھی کشمکش کا شکار ہے کہ اُنہوں نے اپنے سرکاری فرائض کی انجام دہی کے لیے کہاں جانا ہے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ کی زیرِ صدارت اجلاس میں حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتیں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم (ق) شریک ہوں گی اور یہ اجلاس اسمبلی ہال میں ہو گا۔ جب کہ دوسرا اجلاس ایوانِ اقبال میں ہو گا جس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر سردار دوست محمد مزاری کریں گے۔
پنجاب حکومت گزشتہ دو روز سے اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش نہیں کر سکی۔ جس کے بعد گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمٰن نے بجٹ اجلاس ایوانِ اقبال میں طلب کیا ہے۔ تاہم اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے گورنر پنجاب کا طلب کردہ اسمبلی اجلاس غیر قانونی قرار دیا ہے۔
منگل کو آٹھ گھنٹے تاخیر کے باوجود پنجاب اسمبلی میں بجٹ اجلاس کی کارروائی شروع نہیں ہو سکی تھی۔ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان اب تک ڈیڈ لاک برقرار ہے۔
ذرائع پنجاب اسمبلی بناتے ہیں کہ اسپیکر پرویز الٰہی اجلاس میں آئی جی پنجاب پولیس اور چیف سیکریٹری کو بلانا چاہتے ہیں تاکہ ان سے گزشتہ ماہ تحریکِ انصاف کے لانگ مارچ کو روکنے کی وضاحت مانگی جا سکے۔
‘حکومت اپوزیشن کی دوسری شرط ماننے کو تیار نہیں’
اِسی طرح حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں نے شرط عائد کی ہے کہ ان کے بعض رہنماؤں پر قائم کردہ مقدمات ختم کیے جائیں۔ تاہم صوبے میں برسرِ اقتدار جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کا مؤقف ہے کہ آئی جی پنجاب اور چیف سیکریٹری کو اس طرح اسمبلی اجلاس میں نہیں بلایا جا سکتا انہیں طلب کرنے کے باقاعدہ طریقۂ کار موجود ہے۔
مسلم لیگ (ن) کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسمبلی قواعد کے مطابق بجٹ اجلاس میں کسی اور موضوع پر بات نہیں کی جا سکتی۔
ذرائع پنجاب اسمبلی کا کہنا ہے کہ حکومت نے پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کے خلاف درج مقدمات واپس لینے پر کچھ لچک دکھائی تھی لیکن وہ آئی جی اور چیف سیکریٹری کی اسمبلی میں طلبی کی شرط ماننے کو تیار نہیں۔
پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما اسد عمر کہتے ہیں ملک کے سب سے بڑے صوبے میں کیا تماشہ لگا رکھا ہے کہ نجی ہوٹل میں وزیرِ اعلیٰ کا انتخاب ہوا اور اب ایوانِ اقبال میں بجٹ اجلاس۔
واضح رہے کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کا انتخاب بھی تنازع کا شکار ہوا تھا اور تاریخ میں پہلی مرتبہ عدالتی حکم پر اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے حمزہ شہباز سے وزارتِ اعلیٰ کا حلف لیا تھا۔
پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کے بعد آٹھ گھنٹے کی تاخیر سے منگل کی شام ایوان کی کارروائی کا دوبارہ آغاز ہوا تو اسپیکر پرویز الٰہی نے سردار اویس لغاری سے بجٹ پیش کرنے کے لیے کہا۔ جس پر اُنہوں نے اسپیکر سے کہا کہ گورنر اجلاس ملتوی کر چکے ہیں اور اب بجٹ کی کارروائی شروع کرنا غیر قانونی ہو گا۔
اس موقع پر اسپیکر کا کہنا تھا کہ گورنر کے فیصلے کی کوئی قانونی اہمیت نہیں اور وہ بجٹ پیش کریں۔اویس لغاری کی جانب سے بجٹ پیش نہ کیے جانے پر پرویز الٰہی نے اسمبلی اجلاس بدھ تک کو دوپہر ایک بجے تک ملتوی کر دیا تھا۔
صوبائی وزیر عطاءاللہ تارڑ کہتے ہیں کہ قواعد کے مطابق گورنر کسی بھی وقت کسی بھی جگہ جسے وہ مناسب سمجھیں اجلاس طلب کر سکتے ہیں۔ اِسی طرح وہ اجلاس برخاست بھی کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پرویز الٰہی ایوان اقبال آئیں اور اجلاس کی صدارت کریں۔ اُنہیں عزت دی جائے گی اور کوئی آئینی و قانونی معاملہ پیدا نہیں ہو گا۔
