پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کی طبیعت بہت خراب ہے، فوجی قیادت کا خیال ہے کہ انہیں پاکستان واپس آنا چاہیے تاہم اُن کی واپسی حتمی فیصلہ اُن کی فیملی کرے گی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ فوجی قیادت کا مؤقف ہے کہ پرویز مشرف کو پاکستان واپس آنا چاہیے، اُن کی صحت خراب ہے اللہ انہیں صحت عطا فرمائے۔انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کو واپس لانے کیلئے ان کے خاندان سے رابطہ کیا گیا، وہ ڈاکٹرز سے مشاورت کے بعد آگاہ کریں گے اور جواب کے بعد اُن کی واپسی کے انتظامات کیے جاسکتے ہیں۔
دوسری جانب سابق صدر پرویز مشرف کی وطن واپسی کے متعلق سینٹ میں گرما گرم بحث جاری ہے۔ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کو اگر وطن واپس لایا جاتا ہے تو پھر جیلوں کے دروازے کھول دیں اور عدالتوں کو بند کر دیں کیونکہ انکی پھر کوئی ضرورت نہیں۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ پرویز مشرف کو لانے کی باتیں ہو رہی ہیں اور اس حوالے سے میاں نواز شریف کا بھی بیان آیا ہے، اس ملک اور آئین کے ساتھ بڑا ظلم ہوا ہے مگر ہم مجبور ہیں، ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہیں عملاً غلام ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف 10 سالوں سے سیاہ سفید کے مالک رہے، دو مرتبہ آئین توڑا اور عدلیہ پر شب خون مارا، سابق چیف جسٹس کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا۔ پشاور کے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا فیصلہ موجود ہے۔ پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ یہ فیصلہ ہم نہیں کریں گے یہ فیصلے کہیں اور ہوں گے، جب وہ باہر گئے تھے تو کیا آپ روک سکے تھے اور جب آئے گا تو کیا آپ روک سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہجب پرویز مشرف یہاں تھا تو میں نے کہہ دیا تھا کہ میں نے مشرف کو معاف کر دیا اور پرویز مشرف اب اگر آنا چاہتا ہے تو یہ اس کا پاکستان اور اس کا گھر ہے، پرویز مشرف کے ملک واپس آنے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن سب کے ساتھ سلوک ایک جیسا ہونا چاہیے۔ چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف اس ملک کا باشندہ ہے، بیمار ہے اگر آنا چاہتا ہے تو آنے دیں۔
میجر جنرل بابر افتخار نے سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کی شدید علالت کی وجہ سے ان کی ملک واپسی کے حوالے سے جس پریشانی، خواہش اور کوششوں کا ذکر کیا ہے، اسے اگر نواز شریف کے اس بیان کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو لطف دوبالا ہونے کے ساتھ تصویر بھی واضح ہو جائے گی: ’میری پرویز مشرف کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی یا عناد نہیں۔ نہیں چاہتا کہ اپنے پیاروں کے بارے میں جو صدمے مجھے سہنا پڑے، وہ کسی اور کو بھی سہنا پڑیں۔ ان کی صحت کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں۔ وہ واپس آنا چاہیں تو حکومت سہولت فراہم کرے‘ ۔
