ویب ڈیسک —
وزیرِ مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے پاکستان سے متعلق فیصلے اور اس حوالے سے قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کیا جائے۔
حنا ربانی کھر نے جمعے کو ایک ٹویٹ میں بتایا کہ جرمنی کے شہر برلن میں ایف اے ٹی ایف کا اجلاس جاری ہے جس کے اختتام پر باضابطہ طور پر ایک بیان جاری کیا جائے گا۔
پاکستان پرامید ہے کہ اس بار اسے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔ تاہم وزیرِ مملکت کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے اس معاملے پر وزارتِ خارجہ کے دفتر میں ہفتے کی صبح میڈیا بریفنگ دی جائے گی۔
واضح رہے کہ ایف اے ٹی ایف کے پلینری اجلاس کی میزبانی اس بار برلِن کر رہا ہے جہاں 13 جون سے اجلاس جاری ہے اور جمعے کو اس کا آخری روز ہے۔
پاکستان کی کارکردگی کی بنیاد پر اسے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے پلینری اجلاس میں گرے لسٹ سے نکالنے یا مزید رکھنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
پاکستان کو 2018 میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ کا حصہ بنایا گیا تھا جس کے بعد سے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں بہت حد تک کمی واقع ہوئی تھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو 27 سفارشات پیش کی تھیں جن میں سے 26 مکمل کی جا چکی ہیں۔
اس سے قبل مارچ 2022 میں ایف اے ٹی ایف کے جائزہ اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھتے ہوئے کہا گیا تھا کہ پاکستان نے سفارشات کی تکمیل میں خاصی پیشرفت کی ہے، لیکن کچھ نکات پر عمل درآمد اب بھی باقی ہے۔
حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ چار سال کے بعد ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا ہے۔
تاہم معاشی امور سے متعلق خبروں پر نظر رکھنے والے صحافی شہباز رانا کہتے ہیں ایف اے ٹی ایف کا کسی بھی ملک کو گرے لسٹ سے نکالنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے ایک مشن اس ملک بھیجا جاتا ہے جہاں وہ یہ جائزہ لیتا ہے کہ آیا سفارشات پر عمل درآمد کرلیا گیا ہے۔
ان کے بقول ایف اے ٹی ایف کا مشن جائزہ لینے کے بعد ایک رپورٹ ارسال کرتا ہے جس کی بنیاد پر کسی بھی ملک کو گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
