موسمیاتی تبدیلیوں اور انسانی سرگرمیوں نے نیپال کو دنیا کی بلند ترین چوٹی مائونٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ کا مقام بدلنے کے فیصلے پر مجبور کردیا ہے۔نیپال اور چین کی سرحد پر واقع مائونٹ ایورسٹ کے دونوں ممالک میں الگ الگ بیس کیمپس ہیں۔
دونوں میں سے نیپال میں موجود بیس کیمپ کوہ پیمائوں میں زیادہ مقبول ہے جو ایک گلیشیئر کھمبو میں واقع ہے، جہاں ہر سال سیکڑوں افراد اآتے ہیں۔ اب موسمیاتی تبدیلیوں اور انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں یہ گلیشیئر بہت تیزی سے پگھل رہا ہے۔ نیپالی حکام اس بیس کیمپ کو 400 میٹر نیچے منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔
نیپال کے محکمہ سیاحت کے ڈائریکٹر تارا ناتھ ادھیکاری نے بتایا کہ ہم مائونٹ ایورسٹ پر موجود برف کو بچانا چاہتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے نئے اور محفوظ مقام کی تلاش کے لیے ماہرین ماحولیات، کوہ پیمائوں اور مقامی افراد سے مشاورت بھی شروع کردی گئی ہے۔ تارا ناتھ نے بتایا کہ انہیں نہیں لگتا کہ بیس کیمپ نیچے منتقل کرنے سے کوہ پیمائوں کو چوٹی سر کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے چوٹی سر کرنا مشکل نہیں ہوگا بلکہ کوہ پیمائوں اور مائونٹ ایورسٹ کے ماحول کو زیادہ تحفظ ملے گا۔مگر انہوں نے کہا کہ بیس کیمپ کی منتقلی جلد ممکن نہیں۔ ایورسٹ بیس کیمپ کے منیجر شیرنگ ٹینزنگ شیرپا کے مطابق بیس کیمپ کو منتقل کرنے میں چند سال لگ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں مگر بیس کیمپ محفوظ ہے اور ہمیں نہیں لگتا کہ چند سال تک اسے بدلنے کی ضرورت ہوگی۔

