قازقستان کے صدر قاسم جومیرت توکائیف کا کہنا ہے کہ وہ مشرقی یوکرین میں نام نہاد دونیٹسک اور لوہانسک عوامی جمہوریہ کو تسلیم نہیں کریں گے۔
توکائیف نے 25 ویں سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم (SPIF) میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ہمراہ مرکزی اجلاس شرکت کے دوران اپنے خطاب دیا۔
توکائیف نے یوریشین اکنامک یونین، جس کے وہ ممبر ہیں، کی ایشیائی اور مشرق وسطیٰ کی منڈیوں میں توسیع کیے جانے کے تقاضے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ "سچ پوچھیں تو بیکار جوابی پابندیوں کے بجائے ایشیائی اور مشرق وسطیٰ کی وسیع مارکیٹوں کا احاطہ کرنے والی ایک فعال اور لچکدار تجارتی پالیسی کو اپنانا چاہیے۔قازقستان اس معاملے میں ایک بفر مارکیٹ کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
اخباری نمائندوں کے سوالات کا جواب دینے والے توکائیف نے قازقستان کے دونتسک اور لوہانسک سے متعلق موقف پر اپنے جائزے پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اگر ہرقوم کے حق خود ارادیت کو پوری دنیا میں مؤثر طریقے سے حاصل کرلیتی ہے تو اسوقت اقوام متحدہ کے رکن 193 ممالک کی بجائے 600 سے زیادہ ممالک کا وجود ہوتا۔ یقیناً یہ افراتفری ہے۔ لہذا، ہم تائیوان، کوسوو، جنوبی اوسیٹیا، ابخازیہ کو تسلیم نہیں کرتے، اور ہمارا یہی موقف دونیتسک اور لوہانسک کے نیم ریاستی علاقوں پر بھی لاگو ہوگا۔
