English Al Qamar Urdu جون 21, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

 دس برس قبل ڈیورنڈ لائن پر لوگوں کو آنے جانے کی آزادی تھی؛ طالبان کی پاکستانی باڑ پر پھر تنقید

القمر

افغانستان میں طالبان کی حکومت کے نائب وزیرِ خارجہ شیر محمد عباس استنکزئی نے کہا کہ ان کی حکومت پڑوسی ممالک کے ساتھ مثبت اور فعال سیاسی تعلقات چاہتی ہے۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ’پڑوسی ممالک کے ساتھ افغانستان کے تعلقات کا مستقبل‘ کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیر محمد عباس استنکزئی نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان نقل و حمل کے حوالے سے کہا کہ دس برس قبل ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب لوگ آزادی سے آ جا سکتے تھے لیکن اب وہ صورتِ حال نہیں ہے۔

واضح رہے کہ طالبان کی جانب سے حالیہ دنوں میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر لگائی گئی باڑ کی مخالفت سامنے آتی رہی ہے اور سرحد پر یہ باڑ اکھاڑنے کے واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔کچھ ماہ قبل پیش آنے والے واقعات کے بعد پاکستان کے اعلی حکام نے طالبان حکومت سے سرحد پر استحکام قائم کرنے کے لیے اور اعتماد سازی کو فروغ دینے کے لیے مذاکرات بھی کیے۔

پاکستان نے مبینہ دہشت گرد حملوں کے بعد سلامتی کے اقدامات کےطور پر افغانستان کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کیا تھا جو کہ لگ بھگ مکمل ہو چکا ہے۔ دونوں ممالک کی اس سرحد کو تاریخی طور پر ڈیورنڈ لائن بھی کہا جاتا ہے۔

";
//parse XFBML, because it is not nativelly working onload
if (!fbParse()) {
var c = 0,
FBParseTimer = window.setInterval(function () {
c++;
if (fbParse())
clearInterval(FBParseTimer);
if (c === 20) { //5s max
thisSnippet.innerHTML = "Facebook API failed to initialize.”;
clearInterval(FBParseTimer);
}
}, 250);
}
}
};
thisSnippet.className = "facebookSnippetProcessed”;
if (d.readyState === "uninitialized” || d.readyState === "loading”)
window.addEventListener("load”, render);
else //liveblog, ajax
render();
})(document);

طالبان کے برسرِ اقتدار آنے سے قبل بھی اس باڑ کے حوالے سے دونوں ممالک میں تنازع موجود تھا۔

پاکستان کے افغانستان کے ساتھ قبائلی علاقے افغان جنگ کے دوران شدید شورش کا شکار رہےتھے۔ ان علاقوں کو پہلے وفاق کے ماتحت انتظامیہ دیکھتی تھی بعد ازاں ان علاقوں کو صوبہ خیبر پختون خواہ میں اضلاع کے طور پر ضم کیا گیا۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ’سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ ریجنل اسٹڈیز‘ میں اتوار کو ہونے والی کانفرنس سے خطاب میں شیر محمد عباس استنکزئی نے یہ بھی کہا کہ افغانستان سے کسی ملک کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

خیال رہے کہ طالبان متواتر یہ زور دے رہے ہیں کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیں گے۔ البتہ عالمی برادری ان سے مطالبہ کرتی رہی ہے کہ وہ ان وعدوں کو عملاً ثابت کریں اور ساتھ ہی انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے اپنے وعدوں کی پاسداری کریں۔

اقوامِ متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کئی ہزار جنگجو افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور خود ٹی ٹی پی نے بھی پاکستان میں کئی دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

حال ہی میں پاکستانی حکام نے قبائلی جرگہ کے نمائندوں کی مدد سے افغان طالبان کی معاونت کے ذریعے ٹی ٹی پی سے مذاکرات بھی کیے ہیں۔ ان مذاکرات میں فریقین نے جنگ بندی پر بھی اتفاق کیا ہے البتہ اس کا کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

اسلام آباد کالعدم ٹی ٹی پی کے علاوہ دیگر انتہا پسند گروہوں کو بھی اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ اسی لیے وہ دونوں ممالک کی سرحد پر باڑ لگانے کو درست قرار دیتا ہے۔







No media source currently available

پاکستانی حکام اس بات کی نشاندہی رتے ہیں کہ ملک کی سیکیورٹی فورسز اور شہریوں کو سرحد پار سے دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ اس لیے باڑ لگانا ناگزیر ہے ۔ امریکہ کے خفیہ اداروں کی رپورٹس کے مطابق ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کے علاوہ افغانستان میں القاعدہ اور داعش جیسی شدت پسند تنظیموں کے اراکین بھی موجود ہیں۔

کابل میں ہونے والی کانفرنس میں طالبان کے نائب وزیرِ خارجہ شیر محمد عباس استنکزئی نے پڑوسی ممالک سے افغانستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کرنے پر بھی زور دیا۔

بعض رپورٹس کے مطابق شیر محمد عباس استکزئی کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان کے پڑوسی ممالک پناہ لینے والے افغان مہاجرین کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں۔

واضح رہے کہ افغانستان کے پڑوسی ملک پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے لگ بھگ 30 لاکھ افغان مہاجرین موجود ہیں۔ اسی طرح ایران بھی ایک تعداد میں نقل مکانی کرکے آنے والے افغان شہریوں کا مسکن ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے