English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

خواتین کے حقوق کے لیے کچھ نہیں کیا جارہا، حافظ نعیم الرحمن

القمر

امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ کراچی میں تقریباً 40لاکھ خواتین ایسی ہیں جو ٹھیکیدارای نظام کے تحت فیکٹریوں میں کام کررہی ہیں، خواتین کے حقوق کے لیے سیمینارز تو کیے جاتے ہیں لیکن عملاً کچھ نہیں کیا جاتا، بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کا میئر آئے گا خواتین کو عزت بھی ملے گی اور ان کے حقوق بھی۔

گلشن معمار کراچی میں جماعت اسلامی ضلع شمالی کے تحت خواتین کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے مردم شماری میں کراچی کا حق مارا ہے۔ شہر کو حق ہے کہ اس کو ٹرانسپورٹ کا نظام ملے۔ سرکلر ریلوے بند پڑی ہے ۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کے رویوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ شہر بنیادی سہولتوں سے محروم رہا ہے۔

 حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اتنا بڑا بجٹ کہاں جاتا ہے کچھ نہیں پتا-شہر کراچی میگا سٹی ہے۔اتنی بڑی آبادی والا شہر، اتنا زیادہ ٹیکس دینے والے شہر کو اس کا حق نہیں دیا جارہا۔ہم چاہتے ہیں اس شہر کا حق اس کو دیا جائے- شہر میں سرکاری ٹرانسپورٹ سروس مہیا کی جائے، تعلیم اور صحت کا نظام بہتر کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کراچی کے لئیے کچھ نہیں کررہی۔سندھ حکومت سرکاری اختیارات و وسائل کے ناجائز استعمال کے ذریعہ سیاسی اور انتخابی عمل پر براہ راست اثر انداز ہو رہی ہے ، سندھ حکومت نے 14سال میں کراچی کے لیے 240بسوں کا وعدہ اور اعلان کر کے اب ان کی تعداد کم کر دی ہے-

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں کراچی کے عوام کے ساتھ مذاق بند کریں ، تین کروڑ عوام کے گمبھیر مسائل کے حل کے لیے کراچی کو اس کا جائز اور قانونی حق دیں ، k-4منصوبہ 650ملین گیلن یومیہ کے مطابق فی الفور مکمل کریں-

کنونشن سے جماعت اسلامی شمالی کے امیر محمد یوسف نے اپنے خطاب میں کہا کہ  چند بسیں چلا کر اونٹ کے منہ میں زیرہ دینے کے بجائے کراچی کے عوام کے لیے ماس ٹرانزٹ نظام اور سرکلر ریلوے کی مکمل بحال کی جائے ۔ پیپلز پارٹی 14برس میں 5 ہزار ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کا حساب دے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے