پاکستان بھر میں سنت ابراہیمی ادا کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی کی گئی. عید کی نماز کے
بعد گائے، دنبے اور بکروں کی قربانی کا سلسلہ گلی گلی شروع ہو گیا.
تمام ہی مسلمان ممالک میں قربانی کی جاتی ہے لیکن پاکستان میں جیسا قربانی کا انداز ہے شائد
ہی دنیا کے کسی ملک میں ہوتا ہو.
آنے جانے کے راستے بند کر دیے جاتے ہیں. گلیوں میں مین سڑکوں کے بیچوں بیچ جانور
ذبح کر دیے جاتے ہیں. لوگ پریشان ہوتے رہیں قربانی کرنے والوںکی بلا سے کیوں کہ وہ
سنت ابراہیمی ادا کر رہے ہیں.
کیا قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام ہے؟ قربانی کے بھی کوئی نہ کوئی ضابطہ اخلاق ہوں
گے؟ کیا کسی کو پریشان کر کے اور گلیاں سڑکیں خون آلود کر کے قربانی کا مقصد حاصل
ہوجاتا ہے؟
گلی گلی خون اور آلائشیں پڑی ہوں گی. برسات کے موسم میں جگہ جگہ قربانی سے مسائل کچھ
زیادہ ہی جنم لیتے ہیں. تمام شہری حکومتوں کو بھی چاہیے کہ قربانی کے لیے اصول و ضوابط
بنائے جائیں.
قربانی کے لیے کوئی نہ کوئی جگہ مختص کرنی ہو گی یہ نہیں کہ جس کا جہاں دل چاہیے جانور
لٹا کے ذبح کر دے.
