سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ لاپتا افراد پر قانون سازی کریں، جاسوس اور دہشتگرد کا قانون بنائیں۔
اے آر وائے کو خصوصی انٹرویو میں مشاہد حسین سید نے بتایا کہ قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات پر بات ہوئی۔ اجلاس میں عسکری قیادت نے اچھی بریفنگ دی۔
ان کا کہنا تھا کہ محسن داوڑ نے کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات کی مخالفت کی، کچھ لوگوں نے تحفظات کا اظہار کیا تاہم سب کا موقف تھا کہ امن کو موقع دیا جائے۔
جنرل کیانی نےبتایا جب وہ امریکہ گئے،14صفحات پیپر لیکر تواوباما کو کہاکہ آپ جنگ نہیں جیت سکتے،اوباما امریکی اسٹیبلشمنٹ کےاگےکھڑا نہ ہوا۔ڈرگیا۔افغانستان میں سو ملین ڈالرزروز کا خرچہتھاسوا2کھرب ڈالرزضائع کیے،ساڑھے3لالکھ افغان فوج گھوسٹ تھی یہ مال افغانی۔امریکی جرنیل کھا رہےتھے۔مشاہد pic.twitter.com/3H2DBetAQ9
— Naeem Ashraf Butt (@naeemashrafbut3) July 13, 2022
مشاہد حسین نے کہا کہ وزیر خارجہ اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی والدہ کی شہادت پر بات کی لیکن تحفظات کے باوجود انہوں نے مذاکرات کی بھرپور حمایت کی۔
انہوں نے کہا کہ میں نے اور مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت نے اکبر بگٹی سے کامیاب مذاکرات کئے، اس سارے معاملے میں اسٹیبلشمنٹ آن بورڈ تھی لیکن پھر لائن آئی اور پالیسی تبدیل کردی گئی۔
مشاہد حسین سید نے کہا کہ انہوں نے قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کے اجلاس میں لاپتہ افراد کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ 21ویں صدی میں بھی لاپتا افراد کا ہونا شرمناک ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس پر کہا کہ دہشت گردی اور جاسوسی کے خلاف ایجنسیوں کے کردار پر قانون سازی کریں۔
محسن داؤد نےTTP سے مذاکرات کی مخالفت کی۔ہم پھنسےہوئےنہیں خوفزدہ ہیں،اورخوف کمزوری کی نشانی ہے،
اپنی پالیسی بنائیں اورواشنگٹن کی طرف نہ دیکھیںجب اپ خود ڈر جاتےہیں تووہ پھر اپکو ذیادہ ڈراتے ہیں،IMFکےپاس جاکر بھیک مانگیں اورایک فون کال پرعملدرامد کریںکوئی مجبوری نہیں ،مشاہد حسین pic.twitter.com/MoRoQQL6YO— Naeem Ashraf Butt (@naeemashrafbut3) July 13, 2022
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے این ایس سی کے اجلاس میں کہا کہ مذکورہ دونوں الزامات پر افراد کو حراست میں لے لیا جائے لیکن انہیں 48 گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش کیا جائے۔
انہوں نے انٹرویو میں کہا کہ وزیراعظم کو بتایا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے بہت اچھی تجویز آئی ہے، ہمارا دوہرا معیار نہیں ہو سکتا، اس تجویز پر عمل کریں۔
سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ہم پھنسے ہوئے نہیں ہیں، ہمارے پاس علاقائی تزویراتی جگہ ہے۔ آئیے خوف سے باہر نکلیں کیونکہ خوف کمزوری کی علامت ہے۔
میں نےاورچوہدری شجاعت نےاکبربگٹی سے کامیاب بات کی اور اسٹیبلشمنٹ شامل تھی لیکن پھراور لائن اگئی اورپالیسی بدل گئی ،PM یا ارمی چیفبدلنےسےپالیسی بدل جاتی ہے کہاگیا اس مرتبہ پرانی غلطیاں نہیں دہرائیں گے،شائد نئی غلطیاں ہوں۔مشاہدحسین سید انٹرویو1/4 @arynewsud pic.twitter.com/YBZIUIlpHE
— Naeem Ashraf Butt (@naeemashrafbut3) July 13, 2022
مشاہد حسین نے امریکا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سپر پاور امریکا افغانستان میں جنگ ہار گیا۔ ہمارے پاس اپنی پالیسی بنانے کا موقع ہے ہم اب واشنگٹن کی طرف نہ دیکھیں۔ ہم 22 بار آئی ایم ایف کے پاس گئے لیکن کوئی متبادل کیوں نہیں سوچتے؟
افغانستان کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ 10 سال سے امریکہ کو کہتے رہے ہیں کہ افغانستان کا حل مذاکرات ہی ہیں۔ سابق آرمی چیف اشفاق کیانی 14 صفحات پر مشتمل کاغذ لے کر وائٹ ہاؤس گئے کہ آپ افغانستان کی جنگ نہیں جیت سکتے۔ اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما نے وعدہ کیا لیکن ان میں اپنی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے کھڑے ہونے کی ہمت نہیں تھی کیونکہ وہ خوفزدہ تھے۔
سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ ہماری فوج اور قوم نے بہت قربانیاں دیں، امریکا اور مغرب ناکام ہوئے، لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف پاک فوج نے جیتی۔
