نیٹو نے سرد جنگ کے بعد مجموعی طور پر 4 سٹریٹیجک نظریات جاری کیے۔ پہلا نظریہ سن 1991 میں سوویت یونین کے ورثے کے بعد نئے علاقائی اور عالمی جیو پولیٹیکل حقائق کی بنیادوں پر مبنی تھا ۔ دوسرا نظریہ : سن 1991 میں اعلان کردہ سٹرٹیجی تھا۔ اس تصور کا ریفرنس منبع یورپ کے دہانے پر رونما ہونے والا بلقان بحران اور اس کا موجب ہونے والے سیکیورٹی محرکات تھے۔ تیسرے حکمت ِ عملی نظریے کا اعلان سال 2010 میں کیا گیا۔ اس تصور نے روایتی فوجی خطرات کی حدود سے چھٹکارا پا کر غیر متناسب اور غیر روایتی خطرات پر زیادہ توجہ مرکوز کی۔ اس اعتبار سے انسداد دہشت گردی اور سائبر اسپیس کے شعبے میں شامل معاملات کے عنوانات کسی نئے سلامتی موقف کی بنیاد کو تشکیل دیتے تھے۔دوسری جانب اس تصور کا مقصد نیٹو کو بین الاقوامی نظام کو در پیش چیلنجوں کے مطابق ڈھالنا تھا جسے امریکہ نے نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر تباہ کیا تھا۔ اس پہلو کے ساتھ نیٹو نے علاقائی دفاعی خصوصیات سے نکلتے ہوئے عالمی بحرانوں سے نبرد آزما ہو سکنے والی کسی شناخت اور کردار میں رچنا بسنا شروع کر دیا تھا۔
سیتا سیکیورٹی تحقیقاتی ڈائریکٹر ر پروفیسر ڈاکٹر مراد یشل طاش کا مندرجہ بالا موضوع پر جائزہ ۔۔۔
2022 سٹریٹیجک تصور سے تعلق رکھنے والے سلسلے میں علاقائی و عالمی سطح پر اندازہ نہ کیے جا سکنے والے اور غیر یقینی کی صورتحال میں طول آنے والے حد درجے سبک رفتار اور تبدیلی آمیز واقعات کا مشاہدہ ہوا۔ ان میں سے سنسنی خیز اور طویل المدت سٹریٹیجک سطح کے اثرات کو پیدا کرنے والی 2011 میں جنم لینے والی بہارِ عرب کی تحریک تھی ۔
بہار عرب نے نہ صرف نیٹو کو جنوبی علاقوں میں کمزور کیا بلکہ بیک وقت بغاوتوں، ہجرت، دہشت گردی، خوراک کا عدم تحفظ اور معیشت جیسے متعدد اسباب کی بنا پر اس نے نئے اور پہلے کی نسبت کہیں زیادہ نازک معاملات کو جنم دیا۔ مثال کے طور پر شمالی افریقہ سے زیرین صحرا تک، بلقان سے لیکر یمن تک کے وسیع محل و قوع میں ان نئے عوامل کا مشاہدہ ہوا اور بیک وقت روس سے ہٹ کر چین جیسے مخالف اداکاروں کی حیثیت میں مضبوطی آنے کا بھی ہم سب نے واضح طور پر مشاہدہ کیا۔ایک اور اہم مسئلہ یہ تھا کہ روس نے نیٹو کے روایتی تصادم کے علاقے کی نمائندگی کرنے والے مسائل میں اپنی طاقت کو دوبارہ حاصل کرنے کی جستجو اور کوشش کی راہ اپنائی۔ یہ صورت حال جارجیا کے بعد کریمیا کے الحاق جیسے کہیں زیادہ اسٹریٹجک چیلنج کے طور پر ابھری ۔ درحقیقت آخر میں 24 فروری کو روس کی یوکیرین پر قبضہ کرنے کی کوشش، سرد جنگ کے بعد عالمی برادری کو خدشات دلانے والے روسی خطرے کی سطح پر ہے اور اس نے نیٹو کو کہیں زیادہ طاقتور بننے کے تقاضے کی جانب دھکیلا ہے۔ دوسری جانب امریکہ اور چین کے مابین رقابت کا موجب بننے والے نئے بین الاقوامی محاذ نے نیٹو پر ایک نئے طرز کا دباؤ پیدا کیا۔ علاوہ ازیں عام وبا، موسمی تبدیلیاں، جوہری اسلحہ، بالسٹک میزائل ٹیکنالوجی، سائبر اٹاک، غیر حکومتی اداکاروں کے وسائل اور استعداد، تباہ کن ٹیکنالوجیز کا فروغ اور اس کے وسیع استعمال جیسے عوامل نے نیٹو کے ایجنڈے میں کہیں زیادہ جگہ پانے نے سٹریٹیجک تصور کو جدت دینے کی ضرورت کو جنم دیا۔
اس پہلو سے مشاہدہ کرنے سے چوتھا اور تازہ ترین جاری کردہ 2022 حکمت عملی تصور ، اس سے قبل کے تصور سے ہٹ کر روایتی خطرات کے احساس اور غیر متوازن خطرات کو یکجا کرنے والے ایک ہائبرڈ مؤقف کی نمائندگی کرنے والی ایک سوچ پر مبنی ہے۔ تا ہم یہ تبدیلی نیٹو کے تین بنیادی اصولوں پر مبنی شعبہ جات میں اصلاحات لانے کے بجائے اسے طاقتور بنانے کی کوشش کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اس دائرہ عمل میں نیٹو کے تین بنیادی مشنز کے طور پر تشریح کردہ ’’دفاع اور روک تھام‘‘، ’’بحران کی روک تھام اور انتظام‘‘ اور ’’باہمی تعاون پر مبنی سیکیورٹی‘‘ جیسی پالیسیاں ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر ، لچکدار، ہم آہنگ اور فنکشنل میکانزم کے قیام حصول کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہنا چاہیے کہ 2022 سٹریٹیجک تصور، ایک نئی جیو پولیٹکل جدوجہد کی شروعات کی بھی نمائندگی کرتا ہے۔
