English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کیا پی ڈی ایم کے پاس حکومت کرنے کا جواز باقی نہیں رہا؟

القمر
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے پنجاب کے ضمنی انتخابات میں واضح برتری کے بعد ایک مرتبہ پھر ملک میں شفاف انتخابات کا مطالبہ دہرایا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں پنجاب میں کامیابی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ‘میں پی ٹی آئی کے کارکنان اور پنجاب کے ووٹرز کا نہ صرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کو شکست دینے بلکہ پوری ریاستی مشینری، خاص طور پر پولیس کی جانب سے ہراساں کرنے اور مکمل طور پر الیکشن کمیشن کی جانب دار کے باوجود کامیابی پر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں.انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ‘یہاں سے آگے بڑھنے کا واحد راستہ قابل بھروسہ الیکشن کمیشن کے تحت صاف اور شفاف انتخابات ہیں’۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ‘کوئی اور راستہ انتہائی سیاسی غیریقینی اور مزید معاشی افراتفری کا باعث بنے گا’۔
پنجاب کے ضمنی الیکشن کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ظاہراً تو مسلم لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان مقابلہ تھا اور پنجاب میں اگلے الیکشن کی ایک ریہرسل تھی لیکن در اصل یہ موجودہ حکومت اور سابقہ حکومت کے درمیان انتخابات تھے۔ دونوں طرف سے بیانیوں کی ایک جنگ تھی دونوں ہی عوامی مینڈیٹ کے دعویدار تھے۔ اس الیکشن سے پاکستان کے سیاسی مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ کوئی سمجھے یا نہ سمجھے نتائج سے عوام نے اپنے مستقبل کا تعین کا دیا ہے۔
اسے اگر پنجاب کے بارہ کروڑ عوام کا فیصلہ سمجھا جائے تو مبالغہ آرائی نہیں ہوگی۔ اس سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ عوام اب اصل جمہوریت چاہتے ہیں جس کا بہرحال تاثر تحریک انصاف کی طرف ہی جا رہا تھا۔ تین باتیں واضح ہو گئی ہیں ایک تو عوام جیسے میں نے پہلے بھی کہا جمہوریت چاہتے ہیں اور دوسرا انہوں نے لوٹوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور تیسری بات یہ ہے کہ مسلم لیگ کو لوٹوں کو قبول کرنے کا نقصان ہوا ہے انہوں نے اپنے اصل وفادار ساتھیوں کی بجائے وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کو ترجیح دی تو اس پر نتائج بیدار عوامی شعور کی طرف اشارہ دے رہے ہیں۔
اگر میں یہ کہوں کہ تحریک انصاف نے پاکستان کی تمام خود مختار اور نیم خود مختار جماعتوں کو اکیلے شکست دے دی ہے تو اس میں بھی مبالغہ آرائی نہیں ہوگی۔ گو پیپلز پارٹی کے علاوہ دوسری جماعتوں نے انتخابی مہم میں نمایاں ساتھ نہیں دیا مگر نظریاتی طور پر پبلک ان کی ہمدردیوں کو سمجھتی تھی۔اس سارے عمل میں جو بات جان کر مجھے خوشی ہوئی وہ یہ ہے کہ عوام میں شعور آ گیا ہے اور وہ واضح بیانیے کی حمایت میں کھڑے ہیں۔ عمران خان کے دبنگ بیانیے کو انہوں نے قبول کیا ہے اور اس سے عمران خان کو بھی سبق حاصل کرنا ہو گا اور اب جمہوریت کو خالص طور پر لے کر چلنا ہو گا وگرنہ مفاہمتی سیاست کا حال سب کے سامنے ہی ہے۔
نواز شریف اپنی کارکردگی اور ”ووٹ کو عزت دو“ کے بیانیے پر عوام کی ہمدردیاں رکھتے تھے اور عوام ان کے ساتھ تھے۔ ان کی اپنی جماعت کے ساتھیوں کو بھی اس بات کا احساس تھا کہ ووٹ صرف نواز شریف کا ہے۔ اب نواز شریف کو بھی اپنی پالیسی پر غور کرنا ہو گا اور جماعت کی رہتی سہتی ساکھ کو بچانے کے لئے اپنی غلطیوں کو مان کر اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔
اب یہ بھی واضح ہوگیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے پنجاب کے اقتدار پر ایک ڈیڑھ سال کی عبوری مدت میں قابض رہنے کے لئے تحریک انصاف کے منحرف ارکان کو ٹکٹ دے کر اپنے وفادار لوگوں کو نظرانداز کرنے کی جو پالیسی اختیار کی تھی، وہ کامیاب نہیں ہوئی۔ پنجاب کے عوام نے ان تمام امیدواروں کو مسترد کرکے بہر حال یہ واضح کردیا ہے کہ انہیں اپنے مفادات کے لئے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والے لوگ قبول نہیں ہیں۔ حلقہ کی بنیاد پر خاندانی یا برادری کی سیاست اور اثر و رسوخ سے قطع نظر ضمنی انتخاب میں منحرف ارکان کی ایک نئی پارٹی کی طرف سے شرکت مسلم لیگ (ن) کے لئے ہلاکت خیز ثابت ہوئی ہے۔ اگر سیاسی لیڈروں نے اس عوامی موڈ کو جانچنے اور اس کے مطابق سیاسی پارٹیوں کا کلچر تبدیل کرنے کا اقدام کیا تو ملک میں صحت مند جمہوری مزاج مستحکم ہوسکتا ہے۔
جمہوریت کا یہ تقاضا ہے کہ تحریک انصاف کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا جائے۔ دلیرانہ فیصلوں سے ہی جمہوریت مضبوط ہوتی ہے۔ اور اب پی ڈی ایم کی حکومت کے پاس کوئی جواز نہیں کہ وہ حکومت چلائیں اب ان کو تحریک انصاف کے مطالبات کو سنجیدگی سے لینا ہو گا اور ان کے مطالبات پر اپنے خدشات اور تحفظات کو ان سے شیئر کر کے کسی باہمی فیصلے پر پہنچنا ہو گا تاکہ عوام اور ملک کی معاشی صورتحال کو بھی سنبھالا جا سکے اور عوامی رائے کو بھی عزت دی جا سکے۔
پنجاب میں فوری طور پر حکومت تحریک انصاف کے نامزد امیدوار کو دے دینی چاہیے اور تحریک انصاف کو بھی اس بات کا احساس ہو گا اور میں نہیں سمجھتا کہ ان حالات میں کوئی بھی حکومت کو پھولوں کی سیج سمجھ کر تسلیم کرنے کے لئے تیار ہو گا۔ اب حکومت کرنا انتہائی مشکل ٹاسک بن چکا ہے۔ مرکز میں اگر پی ڈی ایم چاہے تو حکومت رکھ سکتی ہے مگر تحریک انصاف کے تعاون کے بغیر اب صوبوں کی مخالفت ہونے کے بعد سیاسی کشمکش کے ماحول میں حکومت کرنا آسان نہیں ہو گا۔
پیر، 18 جولائی 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post کیا پی ڈی ایم کے پاس حکومت کرنے کا جواز باقی نہیں رہا؟ appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے