English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مئیر کراچی کے دفترکی دلچسپ تاریخ

القمر

ایم اے جناح روڈ پر بلدیہ عظمیٰ کراچی کی تاریخی عمارت اپنی بناوٹ اور اہمیت کے اعتبار سے کراچی کی قدیم اور دیدہ زیب عمارتوں میں سے ایک ہے۔اس عمارت کا سنگ بنیاد 14دسمبر 1895ء کو گورنر بمبئی لارڈ سیڈ برسٹ نے رکھا۔ 1915ء میں اس کی بنیاد کا کام پایہ تکمیل کو پہنچا۔5نومبر 1927ء کو موجودہ عمارت کے شرقی حصے کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ 31دسمبر 1931ء کو عمارت کی تعمیر پایہ تکمیل کو پہنچی۔
یہ شاندار عمارت جو کراچی کی پہچان اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کا صدر دفتر ہے۔ اسلامی طرز تعمیر اور مصری و ہسپانوی فن تعمیر کا حسین امتزاج ہے۔ اسے معروف آرکیٹکٹ جیمز سی ویونیس نے ڈیزائن کیا۔

17,75000روپے کی لاگت سے بلدیہ کی یہ عمارت 31دسمبر 1930ء کو پایۂ تکمیل کو پہنچی، جس کا باقاعدہ افتتاح 7جنوری 1932ء کو کراچی کے شہریوں کی موجودگی میں کیا گیا۔
سرخ پتھروں سے بنی اس عمارت کا گھنٹہ گھر دور سے ہی عمارت کی نشاندہی کردیتا ہے۔ بالائی چھت پر چارگنبد اور درمیان میں سامنے کی جانب مرکزی دروازے پر 162فٹ اونچا ٹاور ہے جس کے چاروں جانب گھڑیال نصب ہے۔عمارت کا رقبہ 21150اسکوائر فٹ ہے، جبکہ مکمل رقبہ 179200اسکوائر فٹ ہے۔ پیچھے کی جانب اینیکسی تعمیر کی گئی ہے جس کا رقبہ 17815 اسکوائر فٹ ہے۔ کے ایم سی بلڈنگ کے ٹاور پر ایک گھڑیال نصب ہے ۔ جو چاروں اطراف سے نظر آتا ہے ۔ اس گھڑیال کا ڈایا 10فٹ ہے۔اس گھڑیال کو سوئیڈش الیکٹرک کلاک کمپنی بمبئی نمبر7نےتیارکیاتھا۔۔۔گھڑی کی مشینری 4منزلوں پر مشتمل ہے۔ یہ گھڑیال کششِ ثقل نظام کے تحت کام کررہی ہے۔۔۔

25اگست 1947ء کا دن بلدیہ کراچی کی تاریخ میں یادگار رہے گا ۔ اس دن بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اپنی ہمشیرہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح اور پاکستان کے پہلے وزیراعظم نواب زادہ لیاقت علی خان کے ہمراہ شہریوں کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیے گئے استقبالیہ میں تشریف لائے ،جہاں ان کا استقبال اس وقت کے میئر حکیم محمد احسن اور منتخب اراکین نے کیا

عمارت کی دوسری منزل پر ایک بڑا ہال ہے، جہاں کراچی کے مختلف علاقوں سے منتخب ہونے والے نمائندوں کے اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں۔ان اجلاس میں ہی دراصل کراچی کی قسمت کا فیصلہ ہوتا ہے۔ منتخب اراکین ہی اپنے اجلاسوں میں یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کراچی کی کس سڑک کو تعمیر کرنا ہے ‘ کس جگہ اسکول بنانا ہے اور کس جگہ مارکیٹ۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اربوں روپے کا بجٹ کہاں کہاں استعمال ہونا ہے یہ فیصلے اسی کونسل ہال میں اراکین کی موجودگی میں کیے جاتے ہیں۔

کراچی کے بلدیاتی نظام کا 1933سے 2022 تک کا سفر

جودھ پور کے سرخ پتھروں سے تیار کی گئی یہ منفرد عمارت اپنے زمانے کی نہایت عمدہ شاہکار ہے۔ اس کے چاروں طرف موجود گنبد اس کی دلکشی میں چار چاند لگاتے ہیں ۔ طویل و عریض عمارت ہونے کے باوجود آج کراچی جیسے وسیع آبادی والے شہر کی ضرورتوں کے مقابلے میں اب یہ عمارت چھوٹی پڑتی جا رہی ہے۔ پہلی منزل اور دوسری منزل پر کشادہ برآمدے ہیں جو اس عمارت کی اصل شان ہیں ۔ عمارت کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اگر بجلی نہ ہو تب بھی کمروں میں بیٹھے ہوئے افراد کو گرمی کا احساس نہیں ہوتا۔ بڑی بڑی کھڑکیوں اور روشن دانوں سے ہوا کمروں میں داخل ہوتی رہتی ہے۔ اس کے مغلی انداز کے گنبد ‘ بالکونیاں‘ نوکیلی محرابیں دیکھنے والوں کی آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہیں۔

قیام پاکستان کے بعدبلدیہ عظمیٰ کراچی کی عمارت کے احاطے میں 1951-52ء میں مسجد کی تعمیر عمل میں آئی۔ 1962ء میں بنیادی جمہوریت کے آغاز کے بعد اراکین بلدیہ کی تعداد بڑھی تو مسجد بلدیہ میں بھی دوسری منزل کا اضافہ ہوا۔ وضو خانہ اور دیگر توسیعی کام 1968ء میں پورے ہوئے۔ مسجد کا انتظام مجلس منتظمہ کرتی ہے ۔

پہلی منزل پر کونسل ہال اس وقت کی ضرورت کے پیش نظر تعمیر کیا گیا تھا ۔ آبادی کے ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً منتخب نمائندوں کی نشستوں میں اضافہ ہوتا رہا۔ اور اس ہال میں ردوبدل کے ساتھ نشستوں کی گنجائش نکالی جاتی رہی۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کو 1933ء میں میونسپل کارپوریشن کا درجہ دیا گیا تو نشستوں کی تعداد 57تھی اور ہال میں کافی گنجائش تھی۔
1953میں بلدیاتی نشستوں میں اضافہ کر کے 100کر دیا گیا۔ 1960ء میں بلدیاتی نظام میں پھر تبدیلی ہوئی تو نشستوں کی تعداد کو کم کر کے 58کیا گیا۔ 1966ء میں پھر ان میں اضافہ کر کے 103کر دیا گیا۔ 1979ء میں ملک میں ایک تبدیل شدہ بلدیاتی نظام نافذ ہوا تو کراچی میں بلدیاتی نشستوں کی تعداد 166ہوگئی، جس کے لیے ہال میں اتنی گنجائش تھی ۔

اگلے انتخابات 1983ء منعقد ہوئے تو نشستوں میں اضافہ ہوا اور تعداد 232 ہوگئی اس کے لیے ایک بار پھر اس کونسل میں رد وبدل کیا گیا۔ 1987ء میں کراچی میں دوسطحی نظام نافذ ہوا تو ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن کا نظام نافذ ہوا ۔ بلدیہ عظمیٰ کے لیے منتخب نمائندوں کی تعداد ایک بار پھر 77ہوگئی۔

2001 میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے نیا بلدیاتی نظام متعارف کروایا تو بلدیہ عظمیٰ کراچی کی کونسل کے لیے 255ممبر منتخب کیے گئے۔ ان کے لیے ہال میں گنجائش ناکافی تھی۔ اس ہال کو ایک بار پھر تزئین و آرائش کے مرحلے سے گزارا گیا اور نئے سرے سے تعمیر کیا گیا

نئے ہال کا ڈیزائن ممتاز آرکیٹکٹ ضیغم جعفری نے تیار کیا اور اس کا باقاعدہ افتتاح اس وقت کے نائب ناظم طارق حسن نے 17دسمبر 2004ء کو کیا ۔ جنوری 2022ء میں کے ایم سی بلڈنگ کی تعمیر کے 90سال مکمل ہوچکے ہیں۔ شہری ضلع حکومت کراچی کی جانب سے 75سال مکمل ہونے پراس کی پلاٹینم جوبلی منانے کے لیے ہمارا کراچی کے نام سے تقریبات کا انعقاد 6جنوری تا 18جنوری 2007ء کو کیا گیاتھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے